انوارالعلوم (جلد 12) — Page 225
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۲۵ تحریک آزادی کشمیر موجودہ فسادات کے متعلق جو مقدمات ہیں، ان میں باہر سے مسلمان وکیلوں کو پیش ہونے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اور ان سے بائیس روپیہ کی خاص فیس نہیں لینی چاہئے۔ اس بارہ میں چیف جسٹس صاحب کشمیر نے سفارش کی ہے اور حکومت ہند کی سفارش مزید سہولت پیدا کر سکتی ہے۔ کشمیر میں قیدیوں کے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہوتا اس کی اصلاح کی جائے۔ اور آئندہ کے لئے ہر قوم میں سے کچھ معتمد علیہ غیر سرکاری آدمی مقرر کئے جائیں جو جیل خانوں کا معائنہ کیا کریں تاکہ اگر کوئی ظلم ہو رہا ہو تو اس کا علم ہو جائے ۔ ہم یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ آزاد تحقیقات جیل خانوں کے انتظام کے متعلق کروائی جائے اور قانون جیل خانہ کی بھی اصلاح کی جائے اور خوراک وغیرہ کا انتظام بھی بہتر کیا جائے۔ یہ ایڈریس چار تاریخ کو حضور وائسرائے کے پیش ہوا اور تمام ممبران کے اتفاق سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب گفتگو کیلئے مقرر ہوئے ایک گھنٹہ تک وائسرائے صاحب سے جن کے ساتھ وزیر ریاست اور پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے گفتگو ہوئی اور علاوہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے مناسب موقعوں پر دوسرے ممبرانِ وفد نے بھی حضور وائسرائے کو مسلمانوں کی تکالیف اور صورت حالات سے آگاہ کیا۔ میرے پاس گفتگو کی تفصیلات آچکی ہیں لیکن چونکہ ایسی گفتگو پرائیویٹ سمجھی جاتی ہے میں اسے شائع نہیں کر سکتا۔ مگر اس قدر بتا دینا چاہتا ہوں کہ سب گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت ومت ہند اور ریاست دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ اصلاح کی کافی گنجائش ہے اور دونوں آمادہ ہیں کہ اصلاح کی جائے۔ تجاویز پر غور ہو رہا ہے اور امید ہے کہ جلد ترتیب وار مختلف تکالیف کا ازالہ شروع ہو جائے گا۔ پس ان حالات میں میں یہ دو نصیحتیں کروں گا۔ اول یہ کہ جس جس جگہ کوئی غیر آئینی کارروائی ہو رہی ہو اسے ترک کر دینا چاہئے تاکہ اس پروگرام کے پورا کرنے میں روک پیدا نہ ہو۔ دوسری یہ کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم آئینی جدوجہد چھوڑ دیں۔ آئینی کوششوں کو به سهولت اور پرامن ذرائع سے برابر جاری رکھنا چاہئے۔ یہاں تک کہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب قاضی گوہر رحمن صاحب ، مفتی جلال الدین صاحب اور دوسرے قومی لیڈر اور قومی کارکن آزاد ہو کر ملک کی راہنمائی کر سکیں۔ جن لوگوں نے خود تکلیف اٹھا کر اپنی قوم کو بیدار کیا ہے