انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 177

انوار العلوم جلد ۱۳ تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مها راجہ بہادر کشمیر کے بیان پر اظہار اطمینان قادیان ۱۳۔ نومبر ۔ میں نے آج ہزہائی نس مہاراجہ کشمیر کا مہاراجہ بہادر کو مبارکباد اعلان بہت دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کیا۔ اگر چہ مجھے پہلے ہی علم تھا کہ ایسا اعلان ہونے والا ہے لیکن پھر بھی میں اس کے مطالعہ سے بہت اثر پذیر ہوا ہوں۔ میں ہز ہائی نس کو ان کے صحیح فیصلہ اور ان کے وزیر اعظم کو دانشمندانہ مشورہ پر مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے ایک نہایت اہم مسئلہ کے تصفیہ کا دروازہ کھول دیا ہے۔ میری رائے میں حکومت ہند اور ہزا ایکسیلنسی حکومت ہند اور گورنر پنجاب کا شکریہ گورنر پنجاب ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بدامنیوں کے اسباب کی تحقیقات کے لئے مسٹرڈ لیٹن کو مقرر کیا ہے کیونکہ ان سے بہتر آدمی منتخب نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس کمیشن کو دلال کمیشن کے ایک شدید نقص تحقیق کردہ واقعات کے صرف بعد کے حالات کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ ایک شدید نقص ہے اس کی فوری تلافی ہونی چاہئے کیونکہ دلال کمیشن کا مسلمانوں نے مقاطعہ کر رکھا تھا اور دو غیر سرکاری مسلمان ارکان نے اس میں شرکت نہیں کی تھی اس لئے اس بات کا احتمال ہے کہ کہیں دلال کمیشن کی رپورٹ جس میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا گیا تھا، جدید کمیشن کی کارروائی پر اثر انداز نہ ہو جائے۔ کلینسی کمیشن کی ہیئت ترکیبی میں بھی ایک نقص ہے۔ اس گلینسی کمیشن میں کمیشن میں ایک نقص میں ایک ایسا مسلم رکن شامل نہیں جو آئینی مسائل کا ماہر ہو۔ ایسے رکن کی شمولیت مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ اطمینان کا موجب ہوگی۔ اعلان میں سب سے نمایاں بات ریاست کے قوانین میں تبدیلی کر کے مبارک عزم برطانوی ہند کے قوانین کے مطابق بنانے کا ارادہ اور تحریر و تقریر کی آزادی دینے کا مبارک عزم ہے۔ یہ ایک بہت بڑی پیش قدمی ہے اور مجھے اس پر بہت خوشی حاصل