انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 163

انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۶۳ تحریک آزادی کشمیر آل انڈیا کشمیر کمیٹی اب پہلے سے بہت زیادہ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ دیا ہے۔ چاروں طرف آدمی مسلمانوں کو حالات سے آگاہ کرنے کے لئے بھجوا دیتے ہیں اور چندہ پر بھی آگے سے بہت زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ہر قسم کی مالی اور جانی امداد آپ کو بہم پہنچاتے رہیں گے۔ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے تجویز کی ہے کہ پہلے اچھی طرح حکومت ہند پر اتمام حجت کر دے اور اس کے لئے حضور وائسرائے کو توجہ دلائی جا رہی ہے۔ چنانچہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے تار سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت حکومت ہند اور ریاست میں تازہ مظالم کے متعلق خط و کتابت ہو رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اگر حکومت ہند فورا دخل دینے کے لئے تیار نہ ہو تو ہم لوگ خود ایسی تدابیر اختیار کریں جن سے کومت ہند اور ریاست آپ لوگوں کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہو۔ حکوم ہر ایک کام میں تب ہی کامیابی ہوتی ہے جب پورے نظام سے کیا جائے اس لئے تمام پہلوؤں کو سوچ کر قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے ہوتا ہے۔ پس میں آپ کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کرتا ہوں کہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے ریاست کو خواہ مخواہ دخل دینے کا موقع ملے اور وہ بیرونی دنیا کو کھے کہ ہم تو مجبور ہو کر سختی کرتے ہیں ورنہ ابتداء مسلمانوں کی طرف سے ہے۔ اب بھی وہ یہی کہتی ہے، چنانچہ ایک معزز صاحب نے مجھ خط لکھا ہے کہ میں گاندھی جی کے ساتھ جہاز میں تھا میں نے انہیں کشمیر کے واقعات کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ میری یہ تحقیق ہے کہ سب شرارت مسلمانوں کی ہے اور ریاست مظلوم ہے۔ وہ صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے سختی سے گاندھی جی کو توجہ دلائی کہ اس قدر بڑے لیڈر ہو کر آپ اس قدر تعصب سے کام لیتے ہیں اور بغیر تحقیق کے مسلمانوں کو ظالم قرار دیتے ہیں۔ تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں بھی تم کو قسم دیتا ہوں کہ کشمیریوں کا مظلوم ہونا ثابت کرو ورنہ تم کو میں سخت بد دیانت سمجھوں گا۔ آپ لوگ دیکھ لیں کہ گاندھی جی جیسے انسان کو جنہیں ہر دلعزیز بننے کا نہایت شوق ہے بعض حکام ریاست نے دھوکا دے کر اس قدر متعصب بنا دیا ہے تو دوسرے لوگوں کا کیا حال ہو گا۔ پس آپ کو چاہئے کہ اپنے مظلوم ہونے کی حالت کو بالکل نہ بدلیں۔ بید بیشک تکلیف دہ ہیں، قید بے شک ایک مصیبت ہے لیکن ان تکلیفوں سے بہت زیادہ رسول کریم میں ہم نے اور آپ کے صحابہ نے برداشت کی تھیں۔ ظلم کے پاؤں نہیں ہوتے ظلم بھی دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ کانٹوں کے ساتھ ہی پھول ہوتے ہیں گلاب کے درخت میں پہلے کانٹے لگتے ہیں پھر الله