انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 104

انوا را معلوم جلد ۱۲ ۱۰ تحریک آزادی کشمیر اس وقت تک جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں کو جو ایک ہمدردِ کشمیر کے مقدمے کی کارروائی سننے کی خواہش کے مجرم تھے ، گولیوں اور چھروں سے زخمی کیا گیا۔ ان غریب قیدیوں اور بے کسی مجروحوں اور خاموشی سے جان دینے والوں کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ مسلمان کہلاتے تھے اور انہیں یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا تھا کہ ہم بھی آدمی ہیں۔ پس آج ہر ایک مسلمان جو ہندوستان کے کسی گوشے میں رہتا ہر ایک مسلمان سے امید ہو، اس سے امید کی جاتی ہے کہ سے وہ ۱۴۔ اگست کو جلسہ کرائے یا جلسے میں شامل ہو اور اس صورت حال کے خلاف احتجاج کرے کیونکہ جموں اور کشمیر کے تیس لاکھ مسلمانوں کی آواز جو غلامی کے طوق کے بوجھ کے نیچے کراہ رہے ہیں کسی خیر خواہ ملت کو آرام و چین سے سونے نہیں دے سکتی۔ اس جلسہ کا پروگرام مندرجہ ذیل قرار پایا ہے۔ ا۔ جس قدر زیادہ سے زیادہ آدمی شامل ہو سکیں، ان کا ایک جلوس اس طرح نکالا جلوس جائے کہ مسلمانوں میں کشمیر کے معاملات کے متعلق دلچسپی پیدا ہو اور دوسری اقوام اور حکومت پر اس بارہ میں مسلمانوں کے دلی جذبات کا انکشاف ہو جائے اور وہ معلوم کر لیں کہ اس بارہ میں مسلمان جب تک ظلم کا ازالہ نہ کیا جائے صبر نہیں کریں گے۔ جلسه ۲۔ ایک جلسہ وسیع پیمانے پر کیا جائے اور ہر فرقہ کے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ اس جلسہ میں کشمیر کے حالات سنائے جائیں جن کے متعلق ایک مختصر رسالہ مولوی اے۔ آر۔ درد صاحب ایم ۔ اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے اصل لاگت پر مل سکتا ہے۔ اس رسالہ کو فروخت یا تقسیم کیا جائے تو اور بھی مفید ہو گا۔ ۳۔ حکومت کشمیر کی طرف دوسری ریاستوں سے کشمیر کے سوال کا تعلق نہیں سے دوسری ریاستوں میں یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان مہا راجہ صاحب کو تخت سے اتروانا وانا چاہے چاہتے ہیں اور اس اس ۔ کے بعد وہ باری باری دوسری ہندو ریاستوں پر ہاتھ صاف کریں گے حالانکہ یہ واقعات کے بالکل برخلاف ہے۔ مسلمان صرف کشمیر کے مسلمانوں کو ابتدائی حقوق انسانیت دلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بس۔ دوسری ریاستوں سے کشمیر کے سوال کا کوئی تعلق نہیں۔ صرف بعض محکام کشمیر کی یہ چال ہے جس سے وہ دوسری ریاستوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر کے