انوارالعلوم (جلد 12) — Page 103
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۰۳ تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کشمیر ڈے کا پروگرام تمام احباب نے پڑھ لیا ہو گا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ۱۴۔ اگست کو ایک کشمیر ڈے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اسی سلسلہ میں تمام مسلمان انجمنوں، سوسائٹیوں، لیڈروں اور ہر قسم کے بااثر لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ۱۴۔ اگست کو یاد رکھیں اور آج ہی سے مسلمانوں میں اس کے متعلق احساس پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے تمھیں لاکھ بھائی بے زبان مسلمانان کشمیر پر مظالم جانوروں کی طرح قسم قسم کے ظلموں کا تختہ مشق بنائے جا رہے ہیں۔ جن زمینوں پر وہ ہزاروں سال سے قابض تھے ان کو ریاست کشمیر میں اپنی ملکیت قرار دے کر نا قابل برداشت مالیہ وصول کر رہی ہے۔ درخت کاٹنے مکان بنانے، بغیر اجازت زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی شخص کشمیر میں مسلمان ہو جائے تو اس کی جائیداد ضبط کی جاتی ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ اہل و عیال بھی اس سے زبرستی چھین کر الگ کر دیئے جاتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں انجمن بنانے کی اجازت نہیں ، اخبار نکالنے کی اجازت نہیں، غرض اپنی اصلاح اور ظلموں پر شکایت کرنے کے سامان بھی ان سے چھین لئے گئے ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کی حالت اس شعر کی مصداق ہے۔ نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے تیار کی ہے جب اس صورتِ حالات کے خلاف جموں کے مسلمانوں نے ادب و احترام سے نہ کہ شرارت و شوخی سے مہاراجہ صاحب کے پاس شکایت کی تو بذریعہ تارجموں کے مسلمانوں کے نمائندوں کو بلوایا گیا کہ مہاراجہ صاحب کے پاس اپنی معروضات کو پیش کریں۔ لیکن کئی دن تک آج نہیں کل کرتے ہوئے ان کی شکایات سننے کی بجائے انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا گیا اور