انوارالعلوم (جلد 12) — Page 93
انوارالعلوم جلد ۱۴ ۹۳ تحریک آزادی کشمیر کے مسلمان لیڈروں کو بھی بلایا جائے۔ اس کانفرنس میں ہمیں پورے طور پر جموں اور کشمیر کے نمائندوں سے حالات سن کر آئندہ کے لئے ایک طریق عمل تجویز کر لینا چاہئے۔ اور پھر ایک طرف حکومت ہند پر زور ڈالنا چاہئے کہ وہ کشمیر کی ریاست کو مجبور کرے کہ مسلمانوں کو حقوق دیئے جائیں۔ یا۔ دوسری طرف مہاراجہ صاحب کشمیر و جموں کے سامنے منے پورے طور پر معاملہ کو کھول کر رکھ دینے کی کوشش کی جائے تاکہ جس حد تک ان کو غلط فہمی میں رکھا گیا ہے وہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ اور اگر ان دونوں کو ششوں سے کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر ایسی تدابیر اختیار کی جائیں کہ جن کے نتیجہ میں مسلمانان جموں و کشمیر وہ آزادی حاصل کر سکیں جو دو سرے علاقہ کے لوگوں کو حاصل ہے۔ چونکہ ریاست ہندو ہے ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا کہ ہم اپنے حقوق میں سے کچھ حصہ رئیس کے خاندان کے لئے چھوڑ دیں لیکن یہ کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ۹۵ فیصدی آبادی کو پانچ فیصدی بلکہ اس سے بھی کم حق دے کر خاموش کرا دیا جائے۔ میرے خیال میں کشمیری کانفرنس نے جو کچھ کام اس وقت تک کیا ہے وہ قابل قدر ہے لیکن یہ سوال اس قسم کا نہیں کہ جس کو باقی مسلمان کشمیریوں کا سوال کہہ کر چھوڑ دیں۔ مسلمانان جموں و کشمیر کو اگر ان کے حق سے محروم رکھا جائے تو اس کا اثر صرف کشمیریوں پر ہی نہیں پڑے گا بلکہ سارے مسلمانوں پر پڑے گا اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے مسلمان تماشائی کے طور پر اس جنگ کو دیکھتے رہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کی دعوت کشمیری کانفرنس کی طرف سے جاری ہونی چاہئے لیکن دعوت صرف کشمیریوں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ تمام مسلمانوں کو جو کوئی بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں ، اس مجلس میں شریک ہونے کی دعوت دینی چاہئے اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر متحدہ کوشش کی جائے تو اس سوال کو جلد سے جلد حل نہ کیا جا سکے۔ (الفضل ۱۶٬۱۲۔ جون ۱۹۳۱ء)