انوارالعلوم (جلد 12) — Page 79
انوار العلوم جلد ۱۲ ۷۹ گور نمنٹ اور آریوں سے خطاب دیتے ہیں۔ لیکن حق یہی ہے کہ دوسرے فعل میں وہ منافقت سے کام لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اورنگ زیب زندہ نہیں لیکن حکومت ہند با وجود خود کشی کی پالیسی اختیار کرنے کے پھر بھی انہیں سزا دینے کے قابل ہے اور آریوں کا سیواجی اور بھگت سنگھ کے متعلق متضاد رویہ محض ڈر سے ہے نہ کسی اصل کی پابندی کی وجہ سے لیکن ہر شریف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ طریق کیسا گندہ اور کیسا مکروہ ہے۔ اب میں اپنا نقطہ نگاہ بیان کر چکا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ حکومت اور آریہ جو بھی میرے مضامین کے متعلق کوئی قدم اٹھانا چاہے اس کو اچھی طرح سمجھ لے تا بعد میں انہیں ندامت نه ای اٹھانی پڑے ے اور آریہ صاحبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہ وہ خواہ کس قدر بھی گالیاں دیں اس سے ہمیں نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ جسن بنیاد پر میں نے اپنے دعوی کو رکھا ہے وہ نہایت مضبوط ہے اور آریہ باوجود پورا زور لگانے کے اس کو رد کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میرا کام واضح ہے۔ ہمارے سلسلہ کے بانی کا احترام ہماری نظر میں اس الفضل کو تنبیہہ ہ سے ذرہ بھر بھی کم نہیں جس قدر کہ سناتن دھرمیوں کے دل میں کرشن جی اور رام چندر جی کا احترام ہے اور مسیحیوں کے نزدیک حضرت مسیح کا۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی عزت کی حفاظت کے لئے پورا زور لگائیں۔ میں کسی صورت میں خلاف اخلاق اور جھوٹ پر مشتمل مضمون کی اجازت نہیں دوں گا۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں ایک مضمون پر میں الفضل کو تنبیہہ کر چکا ہوں۔ لیکن جب تک کہ حکومت آریوں کو اس گورنمنٹ اور آریہ اپنا رویہ بدلیں! گندے الزام کے لگانے سے جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لگاتے ہیں نہیں روکے گی میں اور جماعت احمد یہ ہرگز دوسری جماعتوں کے بزرگوں کا ادب کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ بزرگوں کا احترام ایک سودا ہوتا ہے اور اس کی قیمت دونوں فریق کے لئے ادا کرنی ضروری ہے۔ پس ہم برابر ایسے سامان پیدا کرتے چلے جائیں گے کہ جن کی وجہ سے ایک طرف حکومت مجبور ہو کر اپنے رویہ کو بدلے اور دوسری طرف آریہ لوگ بھی مجبور ہوں کہ اخلاق کے معنی سیکھیں اور اخلاقی تعلیم پر عمل کریں۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو جائے تو اسے چاہئے کہ آئندہ کے لئے