انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 68

انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۸ گور نمنٹ اور آریوں سے خطاب سے اس وقت تک سترہ سالہ پبلک زندگی میں ایک دفعہ بھی مجھے شرمندہ ہونے کا موقع پیش۔ نہیں آیا اور مجھے اپنے فیصلہ کے بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور جلد یا بدیر لوگوں کو میرے نقطۂ نگاہ کی صحت تسلیم کرنی پڑی ہے۔ اپنے علم اور اپنے تجربہ کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے ورنہ چونکہ میری صحت خراب ہے اس کے اثر کے نیچے بالکل ممکن تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو میری تقریر اور تحریر میں جلد بازی اور چڑ چڑے پن کا اثر پایا جاتا۔ بہر حال دوست اور دشمن اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ میں محتاط آدمی ہوں اور اندھا دھند اعلان کرنے کا عادی نہیں حتی کہ بعض دوست مجھ پر کمزوری کا الزام لگاتے ہیں۔ پس حکومت اور دشمنان اسلام کو میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ میرے نقطہ نگاہ کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جو یہ ہے۔ میرا خطبه بیان کرده ۲۷۔ مارچ ۱۹۳۱ء بين الاقوام۔ کام معاملات میں حکومت کا رویہ اس امر کے متعلق ہے کہ حکومت کا رویہ بین الاقوامی معاملات میں انصاف پر مبنی نہیں بلکہ ضرورت وقتی پر مبنی ہے اور یہ بات نہایت قابلِ افسوس ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو مصلحت وقت کے مطابق کام کرنا ایک حد تک ضروری ہوتا ہے لیکن یہ اُسی وقت تک جائز ہے جب تک کہ کسی قوم یا فرد پر ظلم نہ ہوتا ہو۔ جب کسی فعل سے کسی فرد یا قوم پر ظلم ہوتا ہو تو ایسا فعل مصلحت وقت کے ماتحت نہیں بلکہ سیاسی پالیسی کے ماتحت کہلائے گا اور مجھے افسوس ہے کہ بین الاقوام معاملات میں گورنمنٹ کا رویہ دلیرانہ اور منصفانہ نہیں بلکہ سیاسی پالیسی کے ماتحت ہوتا ہے۔ جو قوم زیادہ شور مچائے اور گورنمنٹ کو زیادہ تنگ کر سکے گورنمنٹ اس کے ساتھ مل جاتی ہے۔ آریہ لوگ پنجاب میں زیادہ شور مچاتے ہیں اور اور حکومت ہمیشہ ان سے دیتی ہے اور اس وقت حکومت کے دفاتر اور اس کی پالیسی پر وہی قابض ہیں۔ کانگریس نے شور مچایا اور حکومت اس کے آگے اس قدر گری کہ اس کے ساتھ تعاون کرنے والے لوگ اپنے دلوں میں شرمندگی اور ذلت محسوس کرتے ہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ خیال ہے اور اب تک ہے کہ انگریزوں میں بہت انگریزوں کی خوبیاں سی خوبیاں ہیں اور ان کی وجہ سے میں ان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ انگریز ابھی اس ملک میں بہت سے مفید کام کریں گے اور