انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 64

انوار العلوم جلدا م مستورات سے خطاب آزماؤ ۔ اخلاص سے قرآن کو پڑھو خدا خود تمہیں اس کا علم عطا کرے گا۔ بسا اوقات مختلف امور کے ماہر میرے پاس آتے ہیں اور وہ اس کے متعلق مجھ سے اس بارے میں سوال کرتے ہیں۔ جب میں ان کے سوالوں کا ٹھیک جواب دیتا ہوں تو اس وقت حیران ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس اس کے متعلق آپ نے کون سی کتاب پڑھی ہے۔ میرے یہ یہ کہنے پر کہ کوئی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جواب سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس علم کی کتابیں پڑھی ہیں۔ میں جواب دیتا ہوں کہ میں نے علوم کی جامع کتاب پڑھی ہے۔ قرآن کے ہر ایک لفظ اور بات پر غور کرو۔ پھر تم پر قرآن کے علوم کا دروازہ کھولا جائے گا۔ معمولی لیاقت کی عورت بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ میں نے سالہا سال وعظ کیا لیکن تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ خدا کرے کہ اس دفعہ میں دیکھ لوں کہ میری اس نصیحت سے تم کیا فائدہ حاصل کرتی ہو ۔ دینی علوم کے لئے سب سے پہلے قرآن کی ضرورت ہے قرآن کس طرح پڑھنا چاہئے اس کے پڑھنے میں یہ نیت ہونی چاہئے کہ یہ خدا خدا کی کتاب ہے۔ سارا علم اس میں موجود ہے۔ ہر ہر لفظ پر اعتراض پیدا کرو خدا تعالیٰ خود اس کا حل بتائے گا۔ غور کرو کہ صرف الْحَمْدُ لِلَّهِ کہنے سے کوئی نکتہ نہیں معلوم ہو سکتا لیکن اگر تم یہ اعتراض پیدا کرو کہ ہمارے والدین اور ہمارے استاد کیوں قابلِ تعریف نہیں تو آگے رَبِّ الْعَالَمِينَ میں خود اس کا جواب موجود ہے کہ تمہارے احسان کرنے والوں کا رب بھی تو وہی ہے۔ فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے کہ کیوں سب تعریفیں خدا ہی کے لئے ہیں۔ اسی طرح پر ، آپ پر کھلیں گے۔ لیکن اگر نیت صرف یہ ہو کہ قرآن کے الفاظ پڑھ کر برکت حاصل معارف آر کی جائے تو کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ قرآن کے بعد سنت رسول کا علم حاصل کرو دوسری چیز جس کا پڑھنادینی تعلیم کے بعد کا لئے ضروری ہے وہ سنت رسول علم - ہے یعنی احادیث نبی کریم میں ہے ۔ دینی تعلیم اس کے بغیر ناقص ہے۔ اگرچہ قرآن کریم میں سب کچھ ہے مگر اس کا علم حاصل کرنے کے لئے کامل تقوی کی ضرورت ہے۔ وہ باتیں جو تقوی کے کامل ہونے پر منحصر ہیں ان کو قرآن نے چھپایا ہوا ہے۔ وہ پڑھنے والے پر اس وقت تک نہیں کھلیں گی جب تک وہ درجہ حاصل نہ ہو جائے۔ انتہائی تقوی سب کو نہیں مل سکتا۔ اس لئے آنحضرت میم نے شریعت کے اہم مسائل اور ابتدائی علوم نکال کر لوگوں پر خود ظاہر کر