انوارالعلوم (جلد 11) — Page ix
انوار العلوم جلد !! تعارف کتب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوار العلوم کی گیارہویں جلد ہے جو سیدنا حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی کی ستمبر ۱۹۲۹ء سے دسمبر ۱۹۳۰ء تک کی تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے۔ (1) مسئلہ ذبیحہ گائے قادیان کے احمدی اور دوسرے مسلمان اپنی ضرورت کیلئے عید اور دوسرے مواقع پر گائے ذبح کیا کرتے تھے۔ جب یہاں حکومت کی طرف سے سمال ٹاؤن کمیٹی قائم ہو گئی تو اس کام کو ایک باضابطہ شکل دینے کیلئے کمیٹی کی معرفت مذبح خانہ بنانے کیلئے درخواست دی گئی۔ چنانچہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی منظوری کے بعد بھینی متصل قادیان میں منظور شدہ جگہ پر مذبح تعمیر کیا گیا۔ جب اس میں باقاعدہ کام شروع ہوا تو قادیان کے بعض ہندوؤں اور سکھوں نے ارد گرد کے سادہ مزاج دیہاتی سکھوں کو اس کے خلاف اکسانا اور بھڑکانا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں ۷۔ اگست ۱۹۲۹ء کو شوریدہ سکھوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا اور انہوں نے مذبح خانہ مسمار کر دیا۔ پھر انہی فتنہ پرداز عناصر نے سکھوں کو آلہ کار بنا کر ڈپٹی کمشنر صاحب کی اجازت کے خلاف کمشنر صاحب کے پاس اپیل دائر کر دی۔ ڈپٹی کمشنر نے مرعوب ہو کر مدیح کا لائسنس منسوخ کر دیا۔ مذبح کے متعلق جب یہ فتنہ برپا کیا گیا اُس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سرینگر میں قیام پذیر تھے۔ وہاں حضور کو جب ان حالات کا علم ہوا تو آپ نے سرینگر سے ہی ۹ ستمبر ۱۹۲۹ء کو یہ مفصل خط ہندو، سکھ اور مسلمان لیڈروں کے نام تحریر فرمایا جو روزنامہ الفضل