انوارالعلوم (جلد 11) — Page 46
انوار العلوم جلد 11 احمدی خواتین کے فرائض اور ذمہ داریاں ایسا اختلاف کرنے والے کو علیحدہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ جیسے اس عضو کا کاٹنا ضروری ہوتا ہے جس میں ایسے جراثیم پیدا ہو جائیں جو سارے جسم کو تباہ کر دینے والے ہوں۔ ان نصائح کے بعد میں سمجھتا ہوں لجنہ آہستہ آہستہ اپنے کام کو سمجھنے لگ جائے گی اور اس مقام پر پہنچ جائے گی کہ ہم فخر کر سکیں گے۔ کہ جس طرح ہماری جماعت کے مرد منتظم ہیں اور قانون کے ماتحت کام کرنا جانتے ہیں اسی طرح ہماری جماعت کی عورتیں بھی منتظم ہیں۔ اس کے بعد چونکہ اس ایڈریس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہاں پیش آیا اور جو مذبح کا واقعہ ہے۔ اس کی طرف میں اپنی تقریر کا رخ پھیرتے ہوئے لجنہ کو مخاطب کرتا ہوں۔ لجنہ اماء اللہ میں گو ایسی عورتیں نہیں ہیں جن کی اولاد ہو یا جوان اولاد ہو ۔ اِلَّا مَا شَاءَ الله۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہی عورتوں کی قائمقام ہیں اس لئے میں انہیں اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس زمانہ میں عورتوں پر عائد ہوتا ہے۔ ہماری جماعت ہر موقع پر باامن جماعت رہی ہے۔ اب بھی با امن ہے اور با امن رہے گی مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم کسی جبر سے اپنے حقوق چھوڑ دیں اور ان کی حفاظت نہ کریں۔ دنیا میں سب سے بڑھ کر با امن رسول کریم میں تھے مگر آپ کی آخری عمر لڑائیوں میں ہی گذری۔ در اصل امن اور جنگ متضاد نہیں۔ بعض دفعہ امن اور جنگ ایک ہی ہوتا ہے بعض دفعہ جنگ امن کے خلاف ہوتی ہے اور بعض دفعہ جنگ ایک حد تک امن کے خلاف ہوتی ہے اور ایک حد تک اس کے موافق۔ بعض دفعہ امن کے قیام کے لئے جنگ کرنی پڑتی ہے اور بعض دفعہ امن کی بربادی کے لئے جنگ کی جاتی ہے اور بعض دفعہ بین بین حالت ہوتی ہے۔ یعنی نیست تو امن قائم کرنے کی ہوتی ہے لیکن فعل امن کو برباد کرنے والا ہوتا ہے۔ یا نیت تو امن کو برباد کرنے والی ہوتی ہے لیکن فعل امن قائم کر دیتا ہے۔ پس جب کہ قیام امن کے لئے جنگ بھی ضروری ہوتی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری اولادیں بہادر اور مضبوط دل کی ہوں۔ ہمارے ملک میں بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ جب مردوں کے لئے لوئی خاص کام کرنے کا وقت آتا ہے تو عورتوں میں شور پڑ جاتا ہے کہ ہمارے بچے ہمارے بھائی ، ہمارے خاوند ہمارے دوسرے رشتہ دار تکلیف میں مبتلا نہ ہو جا میں گے۔ رسول کریم میں تعلیم کو جہاں مرد جری اور بہادر ملے تھے وہاں عورتیں بھی نہایت قوی دل اور مضبوط حوصلہ والی ملی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم مسلم اور آپ کے غلاموں نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ۔ ورنہ اگر میدان جنگ میں جانے