انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 45

انوار العلوم جلد 1 ۴۵ احمد کی خواتین کے فرائض اور ذمہ داریاں : طرح قانون مکمل ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس اگر لجنہ کے کاموں میں اختلاف پیدا ہو تو اس سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ اختلاف تو نقائص کی طرف توجہ دلاتا اور دوسرے کی خامیاں ظاہر کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قانون مکمل ہوتا جاتا ہے اور قانون کے مکمل ہونے سے کام کو پختگی حاصل ہوتی جاتی ہے۔ پس اختلاف سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ اس کی قدر کرنی چاہئے۔ دیکھو رسول کریم میں نے فرمایا ہے ۔ اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةً۔ میری امت میں اختلاف رحمت ہے۔ یہ ایسا ہی اختلاف ہے جو ایک نظام کے ماتحت ایک انجمن کے ماتحت اور خلافت کے ماتحت کیا جائے۔ ہاں جو اختلاف اس کے مقابلہ میں اور اس کے باہر ہو کر کیا جائے، وہ تباہی کا موجب ہوتا ہے۔ ہر فریق جب یہ کہے کہ ہمیں جو اختلاف ہو گا وہ جب قانون اور نظام کے خلاف ہو گا ہم اسے چھوڑ دیں گے اور نظام کے ماتحت کام کریں گے تو ایسا اختلاف نقصان کا موجب نہیں ہوتا بلکہ فائدہ رسان ہوتا ہے۔ ممبرات لجنہ کو یاد رکھنا چاہئے ان کے سامنے کاموں کا بہت بڑا میدان پڑا ہے اور ان کے کرنے کے ایسے ایسے کام ہیں جو ابھی ان کے ذہن میں بھی نہیں آسکتے۔ ایک زمانہ تھا جب میں ممبرات لجنہ کے سامنے تقریر کرتا اور بتاتا کہ انہیں کیا کرنا چاہئے تو ممبرات تقریر سن کر کہتیں ہم خوب اچھی طرح تقریر سمجھ گئی ہیں مگر یہ تو بتایا جائے ہم کام کیا کریں۔ میں پھر تقریر کرتا اور پھر ان کی طرف سے یہی سنتا کہ ہم نے سب باتیں سن لی ہیں مگر جو کام ہمیں کرنا چاہئے وہ بتایا جائے۔ گویا وہی حالت ہوتی جو ساری رات زلیخا کا قصہ سنانے والے کے متعلق ہوئی تھی کہ ساری رات سن سن کر پوچھنے لگے ۔ زلیخا مرد تھا یا عورت ؟ میں ان کی بات پر حیران ہو تا کہ میں نے تو انہیں دنیا بھر کے کام بتا دیئے ہیں مگر یہ کہہ رہی ہیں بتاؤ ہم کیا کام کریں۔ لیکن اب میں دیکھتا ہوں ان میں کام کرنے کا احساس پیدا ہو رہا ہے اور انہوں نے جوش سے کام شروع کئے ہوئے ہیں۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے ان امور کے ساتھ اختلاف کا ہونا بھی لازمی ہے ان کو برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ وہ قوم جو ایسے اختلاف کو جو اصولی نہیں ہوتے برداشت نہیں کرتی اور اختلاف کرنے والوں کو اپنے ساتھ نہیں ملاتی بلکہ علیحدہ ہو جانے پر مجبور کرتی ہے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ مسلمانوں کی تباہی کا بہت بڑا باعث یہی ہے کہ جسے کوئی اختلاف ہو اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے حالانکہ اگر اختلاف اصولی نہیں نظام کو نہیں توڑتا اور اصل جڑ پر ضرب نہیں لگاتا تو اس کا ہونا ضروری ہے اور اسے برداشت کرنا چاہئے۔ ہاں اگر اختلاف اصولی ہو اسکا جڑ پر حملہ ہو تو