انوارالعلوم (جلد 11) — Page 607
انوار العلوم جلد !! ५-८ فضائل القرآن (۳) لیکن قرآن کریم نے اسے کتنا علمی بنا دیا۔ باقی کتب میں اس کا ذکر بھی نہ ہوگا۔ پس ہمارا کی دعوی نہیں کہ قرآن میں ایسی باتیں ہیں جو اور کسی مذہبی کتاب میں نہیں بلکہ یہ دعوی ہے کہ قرآن کریم کی کوئی ایسی بات نہیں جو دوسرے مذاہب کی الہامی کتابوں سے افضل نہ ہو ۔ خواہ وہ کھانے پینے کے متعلق ہو خواہ لین دین کے متعلق ہو خواہ اور معاملات کے متعلق ہو۔ اس کے لئے ہم چیلنج دے سکتے ہیں کہ کوئی عیسائی یا ہندو یا کسی اور مذہب کا پیرو کھڑا ہو اور کسی مسئلہ کا نام لے کر کہے کہ اسے قرآن سے افضل ثابت کرو تو یقینا ہم اسے افضل ثابت کر دیں گے۔ إِنْشَاءَ اللَّهُ تَعَالَى - پس قرآن کریم بعض باتوں میں ہی افضل نہیں بلکہ ہر بات میں افضل ہے۔ حتی کہ قرآن زبان کے لحاظ سے بھی افضل - ں ہے۔ لیکن بوجہ اس کے کہ تفصیلات سے صرف جزئیات کا علم حاصل ہوتا ہے میں اب اصول کی طرف آتا ہوں۔ - میں نے پچھلے سال سالانہ جلسہ پر قرآن کریم کی فضیلت کے چھ اصول بتائے تھے۔ اور ثابت کیا تھا کہ ان میں سے ہر امر میں قرآن کریم دوسری کتب سے افضل ہے۔ وہ چھ اصول یہ تھے ۔ اول۔ جس کا منبع افضل ہو ۔ دوم ۔ ظاہری حسن ۔ سوم ۔ وہ اس غرض کو پورا کرے جس کے لئے اس کی ضرورت سمجھی گئی ہو۔ چہارم ۔ اس کا فائدہ دوسروں سے پنجم ۔ جس میں ملاوٹ نہ ہو۔ ششم ۔ وہ چیز اپنی ہو۔ زائد ہو۔ اب میں چند اور فضیلت کے اصول بیان کر کے بتاتا ہوں کہ قرآن کریم وجہ فضیلت کے لحاظ سے دوسری تمام الہامی اور غیر الہامی تعلیمات سے افضل ہے۔ ساتویں وجہ فضیلت کی یہ ہوا کرتی ہے کہ کوئی چیز اپنی قرآنی فضیلت کی ساتویں وجہ جنس کی چیزوں کی نسبت ٹوٹ پھوٹ سے زیادہ محفوظ ہو ۔ جب ہم کپڑا خریدتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ کونسا کپڑا زیادہ چلے گا۔ جو جلد پھٹ جانے والا ہو وہ نہیں لیتے بلکہ جو زیادہ دیر چلنے والا ہو وہ لیتے ہیں۔ یہی حال اور چیزوں کا ہوتا ہے۔ زیادہ چلنے والی چیز خریدی جاتی ہے اور کم چلنے والی چیز چھوڑ دی جاتی ہے۔ تعلیمات کے متعلق بھی یہ سوال لازما ہوتا ہے۔ اگر دو تعلیمیں برابر ہوں لیکن ایک بگڑنے سے محفوظ ہو تو اسے یقینا نقدم حاصل ہو گا۔ اس اصل کے ماتحت ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ یہ ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ ہے یا دوسری کتابیں ۔ الہامی کتابوں میں ٹوٹ پھوٹ نہ ہونے کے کیا معنی ہوتے ہیں ہیں کہ الہامی