انوارالعلوم (جلد 11) — Page 606
انوار العلوم جلدا 4۔4 فضائل القرآن (۳) ہو گا۔ یعنی عورتوں سے بدسلوکی اولاد کو بد اخلاق بنا دے گی۔ کیونکہ بچہ ماں سے اخلاق سیکھتا ہے۔ چوتھی بات یہ بتائی کہ عورت سے تمہارا صرف ایسا تعلق ہو جس سے اولاد پیدا ہوتی ہو ۔ بعض نادان اس سے خلاف وضع فطری فعل کی اجازت سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ وہ عمل کرو جس سے کھیتی پیدا ہو۔ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ ایک بات کو اسی حد تک ننگا کرتا ہے جس حد تک اخلاق کیلئے اس کا عریاں کرنا ضروری ہوتا ہے باقی حصہ کو اشارہ سے بتا جاتا ہے۔ پس انى شِئْتُم میں تو اللہ تعالی نے ڈرایا ہے کہ یہ تمہاری کھیتی ہے اب جس طرح چاہو سلوک کرو ۔ لیکن یہ نصیحت یاد رکھو کہ اپنے لئے بھلائی کا سامان ہی پیدا کرنا ورنہ اس کا خمیازہ بھگتو گے۔ یہ ایک طریق کلام ہے جو دنیا میں بھی رائج ہے۔ مثلاً ایک شخص کو ہم رہنے کیلئے مکان دیں اور کہیں کہ اس مکان کو جس طرح چاہو رکھو تو اس کا مطلب اس شخص کو ہو شیار کرنا ہو گا کہ اگر احتیاط نہ کرو گے تو خراب ہو جائے گا اور تمہیں نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح جب لوگ اپنی لڑکیاں بیاہتے ہیں تو لڑکے والوں سے کہتے ہیں کہ اب ہم نے اسے تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے جیسا چاہو اس سے سلوک کرو۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اسے جوتیاں مارا کرو بلکہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تمہاری چیز ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔ پس انى شِئْتُم کا مطلب یہ ہے کہ عورت تمہاری چیز ہے اگر اس سے خراب سلوک کرو گے تو اس کا نتیجہ تمہارے لئے بُرا ہو گا اور اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا ہو گا۔ دراصل اس آیت سے غلط نتیجہ نکالنے والے انٹی کو پنجابی کا آناہ" سمجھ لیتے ہیں اور یہ معنی کرتے ہیں کہ ”اٹھے واہ " کرو۔ تکمیل روحانیت کا زوجیت سے تعلق پھر قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جنت میں بھی بیویاں ہونگی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی کا تعلق اسلام میں روحانیت کی تکمیل کیلئے ضروری ہے ورنہ اس جگہ بیویوں کی کیا ضرورت ہو سکتی تھی۔ وہاں تو اولاد پیدا نہیں ہوئی۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ رجولیت اور نسائیت کی اصل غرض تحمیل انسانی ہے اولاد ایک ضمنی فائدہ رکھا گیا ہے۔ غرض قرآن کریم کا کوئی حکم لے لو۔ خواہ وہ کس قدر ہی ابتدائی امر کے متعلق ہو اس میں بھی اسلام کی تعلیم افضل ہی نظر آئے گی۔ نرو مادہ کے تعلقات کا مسئلہ کتنا ابتدائی مسئلہ تھا