انوارالعلوم (جلد 11) — Page 585
انوار العلوم جلد ۵۸۵ فضائل القرآن (۳) اول ایسا انسان محسوس کرتا ہے کہ مجھ سے بھی زیادہ غریب اور محتاج لوگ دنیا میں موجود ہیں۔ ایک ایسا شخص جسے خود ایک وقت کا فاقہ ہو اسے اگر کوئی چیز ملے اور وہ کہے۔ میں کے صدقہ دوں؟ تو خدا تعالی اسے کہتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے تم ایسے شخص کو صدقہ دے سکتے ہو جو کئی وقت کا بھوکا ہو۔ دوم اسلام نہیں چاہتا کہ کسی ثواب سے کوئی بھی محروم رہے۔ اس لئے صدقہ اس نے صرف امراء پر ہی نہیں بلکہ غرباء پر بھی رکھا ہے تاکہ وہ بھی اس ثواب سے محروم نہ رہیں۔ اور پھر وہ شخص تو ثواب کا اور زیادہ مستحق ہوتا ہے جو تنگی کی حالت میں دوسرے کی مدد کرتا ہے۔ سوم خدا تعالٰی نہیں چاہتا کہ غریب کے دل پر زنگ لگے۔ جو خود لیتا رہے لیکن دے نہیں۔ اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے۔ اسی لئے اسلام نے کہا کہ وہ بھی دے تاکہ وہ یہ سمجھے کہ میں ہی دوسروں سے امداد حاصل نہیں کر رہا بلکہ میں بھی دوسروں کی مدد کرتا ہوں۔ اس کے لئے اسلام نے ایک خاص موقع بھی رکھ دیا ہے۔ یعنی رمضان کے بعد صدقۃ الفطر رکھا ہے جس سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ حتی کہ رسول کریم میں ہم نے فرمایا ہے کہ غریب اس سے دے دے جو امیر اس کے گھر بھیجے لیکن صدقہ ضرور دے۔ گیارھویں بات اسلام نے یہ بتائی ہے کہ صدقہ کسے دیا جائے۔ صدقہ کے مستحقین میں نے بتایا ہے۔ وید میں کہا گیا ہے کہ برہمن کو صدقہ دیا جائے۔ کسی اور کو نہ دیا جائے۔ بعض مذاہب میں قومی اور خاندانی لحاظ سے صدقہ دینے کا حکم ہے۔ مگر اسلام کہتا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے۔ بعض مذاہب نے صدقہ غیر کے لئے رکھا ہے اپنے لوگوں کے لئے نہیں۔ مسلمانوں میں بھی یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کو صدقہ نہیں دینا چاہئے حالانکہ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ قُلْ مَا اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالاقْرَبِينَ وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ یعنی جو مال تم خدا کی راہ میں تقسیم کرو اگر تمہارے ماں باپ محتاج ہوں اور تمہارے ہدایا سے بھی ان کی تنگی دور نہ ہو سکے تو انہیں صدقہ میں سے بھی دے سکتے ہو۔ پھر اقرمین کو دو۔ بتائی کو دو مساکین کو دو۔ مسافروں کو دو۔ پھر فرماتا ہے۔ اِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ٣٩، یعنی صدقات غریبوں