انوارالعلوم (جلد 11) — Page 584
انوار العلوم جلد ) ہوتے ۵۸۴ فضائل القرآن (۳) تے، وہ کہتے ہیں فلاں ڈاکو بڑا اچھا آدمی ہے کیونکہ وہ غریبوں کی خوب مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہ غریبوں پر رحم کرنے کا طریق نہیں بلکہ اصل طریق یہ ہے کہ اَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ غریبوں کی ہمدردی کے یہ معنے نہیں کہ ڈاکے ڈال کر اور دو سروں کا مال چھین کر ان کو دے دو بلکہ تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اس قدر مال جس قدر قرآن کریم نے جائز رکھا ہے دیدو اور باقی کام خدا تعالی پر چھوڑ دو۔ کسی کی خاطر نا جائز فعل کرنا درست نہیں۔ لوگوں کا مال لوٹ کر غرباء کو دینا تو "حلوائی کی دُکان اور دادا جی کی فاتحہ " کا مصداق بننا ہے۔ اگر تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تھوڑا مال ہے مگر غریب بہت ہیں تو اس کی ذمہ داری تم پر نہیں۔ تم جتنا دے سکتے ہو دے دو باقی خدا تعالی کے سپرد کرو۔ ایک تاریخی لطیفہ ہے۔ لکھا ہے کہ صلیبی جنگوں کے موقع پر ایک شخص جو فوج میں ملازم تھا بادشاہ کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا۔ میری غیرت یہ برداشت نہیں کرتی کہ میں بیت المال سے تنخواہ لوں۔ میں آئندہ تنخواہ نہیں لونگا۔ اسے کہا گیا کہ پھر تم کس طرح گزارہ کرو گے۔ اس نے کہا۔ میری ایک لونڈی ہے جو جادو ٹونے کرنا جانتی ہے۔ میں اس کی کمائی سے گزارہ کرلوں گا۔ گویا اس نے اسلام سے ناواقفیت کی وجہ سے حرام مال کو تو جائز قرار دے لیا اور جائز کو اپنے لئے حرام سمجھ لیا۔ دسویں بات اسلام نے یہ بتاتی ہے کہ غرباء اور امراء دونوں کو صدقہ دینا چاہئے صدقہ دے کون۔ کیا امراء کو ہی صدقہ دینا چاہئے غرباء کو نہیں دینا چاہئیے؟ اسلام کہتا ہے کہ صدقہ غرباء کو بھی دینا چاہئے۔ کیونکہ صدقہ دینے کی صرف میں غرض نہیں کہ حاجت مند کی امداد ہو بلکہ یہ ایک درس گاہ ہے جس میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اگر غریبوں کو صدقہ دینے سے محروم رکھا جائے تو وہ اس درس گاہ میں تعلیم پانے سے محروم رہ جائیں گے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ ۳۸ مومن وہ ہیں جو اس وقت بھی خرچ کرتے ہیں جب ان کے پاس مال ہوتا ہے اور اس وقت بھی خرچ کرتے ہیں جب آپ تنگی میں مبتلا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے غریب امیر سب کے لئے صدقہ مقرر کیا ہے تاکہ انہیں صدقہ دینے کے فوائد حاصل ہو جائیں۔ صدقہ دینے کے کئی فوائد ہیں جن میں سے دو تین میں بیان کر دیتا ہوں۔