انوارالعلوم (جلد 11) — Page 577
انوار العلوم جلد )) ۵۷۷ فضائل القرآن (۳) مقررہ میں تو حد مقرر کر دی گئی ہے کہ چالیسواں حصہ یا جانوروں میں سے اتنا حصہ دیا جائے مگر جہاد کے لئے کہا جاتا ہے کہ دو جتنا دے سکتے ہو۔ چنانچہ ایک جہاد کے موقع کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ مجھے خیال آیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ مجھ سے بڑھ جاتے ہیں۔ آج میں ان سے بڑھوں گا۔ یہ خیال کر کے میں گھر گیا اور اپنے مال میں سے آدھا مال نکال کر رسول کریم ملی وسلم کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے لے آیا۔ وہ زمانہ اسلام کے لئے انتہائی مصیبت کا دور تھا۔ لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ابو بکر ! گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول " ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ یہ سن کر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور میں نے سمجھا کہ آج میں نے سمارا زور لگا کر ابو بکر سے بڑھنا چاہا تھا مگر آج بھی مجھ سے ابو بکر بڑھ گئے۔ ۲۵ ممکن ہے کوئی کہے کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے تھے تو پھر گھر والوں کے لئے انہوں نے کیا چھوڑا؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے مراد گھر کا سارا اندوختہ تھا۔ وہ تاجر تھے اور جو مال تجارت میں لگا ہوا تھا وہ نہیں لائے تھے اور نہ مکان بیچ کر آگئے تھے۔ جہاد کے موقع پر مال دینے کا ذکر سورۃ بقرہ رکوع ۲۴ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ، تم جنگی کاموں میں اپنا روپیہ صرف کرو۔ اگر نہیں کرو گے تو دشمن جیت جائے گا اور تم تباہ ہو جاؤ گے ۔ پھر ایک صدقہ اختیاری ہوتا ہے۔ اس کے متعلق بقرہ رکوع ۲۶ میں آتا ہے۔ ما اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۲۷، جب کوئی دینے کا موقع ہو اور اس وقت تم خدا کے لئے خرچ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو ۔ اپنے والدین کیلئے اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے بتائی اور مساکین اور مسافروں کیلئے۔ یہ صدقہ اختیاری رکھا۔ ایک اور جگہ اختیاری اور لازمی صدقہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے۔ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ - ۲۸، معلوم کے لفظ میں بتا دیا کہ ۔ یہ مقررہ صدقہ ہے۔ کیونکہ مَعْلُوم کے معنی ہیں مقرر کر دیا گیا۔ یعنی رقم مقرر کر دی کہ اتنا دینا ضروری ہے۔ یا یہ کہ خرچ کا وقت مقرر ہوتا ہے کہ اب کچھ نہ کچھ دیتا تم پر فرض ہے۔ پس