انوارالعلوم (جلد 11) — Page 576
انوار العلوم جلد ۵۷۶ فضائل القرآن (۳) عادت پڑے گی۔ جب وہ اپنے بڑوں کو دیکھیں گے کہ وہ صدقہ دیتے ہیں تو سمجھیں گے کہ یہ اچھی بات ہے اور خود بھی صدقہ دینے لگ جائیں گے اس طرح آہستہ آہستہ ان کی تربیت ہوتی جائے گی۔ تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ بعض دفعہ لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں شخص امداد کا محتاج ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مجھے اپنے محلہ یا اپنے قصبہ یا اپنے شہر کے کسی آدمی کے متعلق پتہ ہو کہ وہ محتاج ہے لیکن دوسروں کو پتہ نہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر میں ایک دوست کو کچھ دوں کہ فلاں کو دے دینا تو بغیر یہ اعلان کرنے کے کہ فلاں کی مدد کرو اسے خود بھی دینے کا خیال آجائے گا۔ یہ ظاہری طور پر صدقہ دینے کے فوائد ہیں۔ اسی طرح اگر مخفی طور پر خیرات دی جائے تو وہ دینے والے کے اپنے نفس کیلئے اچھی ہے اس سے اس میں ریاء پیدا نہیں ہو گا جو ظاہر طور پر دینے پر دینے سے پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن جو شخص مخفی خیرات اس لئے دیتا ہے کہ اس کے دل میں ریاء پیدا نہ ہو وہ جب ظاہر طور پر دے گا تب بھی ریاء کا جذبہ اس میں پیدا نہ ہو گا کیونکہ وہ اپنے نفس کو ریاء سے بچانے کیلئے پوشیدہ طور پر دے کر مشق کرتا رہتا ہے۔ ریاء کا جذبہ اس میں پیدا ہو سکتا ہے جو صرف ظاہرہ خیرات دیتا ہے۔ پھر لَكُمْ کہہ کر یہ بھی بتا دیا کہ پوشیدہ دینے میں تمہارے لئے بھی نفع ہے اور فقراء کے لئے بھی یعنی جنہیں دیتے ہو ان کے لئے بھی کیونکہ اس طرح ان کی عزت نفس محفوظ رہتی ہے اور وہ شرمندہ نہیں ہوتے۔ غرض مخفی طور پر صدقہ دینا دینے والے کیلئے بھی نفع بخش ہے کیونکہ اس میں ریاء پیدا نہیں ہوتا اور لینے والے کے لئے بھی کہ اس کی خفت نہیں ہوتی۔ صدقہ کے متعلق تیسرا پہلو یہ ہے کہ اسلام نے اس کی اقسام مقرر صدقہ کی مختلف اقسام کی ہیں۔ صدقہ کی ایک قسم تو لازمی ہے جس کے متعلق فرمایا ۔ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأَتُوا الزَّكوة ٢٣ تم نماز با شرائط جماعت کے ساتھ ادا کرو اور زکوۃ دو۔ آگے اس لازمی صدقہ کی دو قسمیں بتائیں۔ اول لازمی وقتی جیسے جہاد ہے۔ جب جہاد کا موقع پیش آ جائے اس وقت قوم کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے اموال پیش کر دے۔ دوم لازمی مقررہ جیسے فرمایا خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً ٠٢٢ يه زکوۃ ہے۔ لیکن ایک صدقہ وقتی غیر مقررہ ہے اس میں شریعت یہ نہیں کہتی کہ کتنا دو بلکہ یہ کہتی ہے کہ اس وقت ضرور ہو۔