انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 569

انوار العلوم جلدا ۵۶۹ فضائل القرآن (۳) ہم اس کے متعلق استامان لیتے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلیم ہر جگہ چل سکتی ہے اور ہر انسان اس پر عمل کر سکتا ہے۔ اب اگر یہ کہیں کہ صدقہ تبھی دو جب صدقے کی خاطر دے سکو تو جو لوگ اس طرح نہیں دے سکتے وہ نہیں دیں گے۔ اور اس وجہ سے غریب صدقہ نہ ملنے پر بھوکے مریں گے۔ کیونکہ جو اس طرح صدقہ نہیں دے سکتے وہ نہیں دیں گے وہ کہیں گے جب ہم صدقہ، صدقہ کی خاطر نہیں دے سکتے تو پھر اپنا مال کیوں ضائع کریں۔ اور جب وہ اس وجہ سے نہیں دیں گے تو غریب لوگ نقصان اٹھائیں گے ۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اسلام نے صدقہ کے مختلف پہلوؤں پر اسلام کی رو روشنی کس طرح صدقہ و خیرات کو ایک روشنی علمی مضمون بنا دیا ہے۔ صدقہ کی مقدار پہلی چیز صدقہ کی مقدار ہے کہ کس قدر دینا چاہئے۔ انجیل نے اس کے متعلق کہا ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ سب کا سب دے دو۔ وید کہتا ہے برہمن جو کچھ مانگے وہ اسے بلا چون و چون و چرا دے دے دو۔ مگر اسلام نے اس کی حد مقرر کر دی ہے۔ اسلام کہتا ہے ۔ لاَ تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا - إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا - لا یعنی اے انسان ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ نہ تو اپنے ہاتھ کو تو بالکل باندھ کر رکھ کہ کچھ دے ہی نہیں۔ (مغلولہ ہاتھ پیچھے کی طرف کھینچ کر گلے سے لگا لینے کو کہتے ہیں) اور نہ مٹھی کو اس طرح کھول کر رکھ دے کہ جس کی مرضی ہو لے جائے۔ گویا نہ تو ایسا ہو جیسا کہ انجیل میں کہا گیا ہے کہ سب کچھ دے دو اور نہ اس پر عمل ہو جو یورپ کے فلاسفروں کی تعلیم ہے کہ صدقہ دینے سے لوگوں میں سستی پیدا ہوتی ہے اس لئے صدقہ دینا ہی نہیں چاہئے۔ گویا پادری تو یہ کہتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ سب کچھ دے دو گو آپ کچھ بھی نہیں دیتا۔ اور فلاسفر کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں دینا چاہئے۔ بہر حال یہ دونوں قسم کی تعلیمیں موجود ہیں۔ قرآن ان دونوں کو دیکھتا ہے اور پھر کہتا ہے لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْطِ نہ تو ہاتھ کو سمیٹ کر گلے سے باندھ رکھو۔ یہ کہتے ہوئے کہ صدقہ دینے سے لوگوں کی عادتیں خراب ہوتی ہیں۔ ان میں سستی پیدا ہوتی ۔ پیدا ہوتی ہے وہ محنت و مشقت کرنے سے جی چراتے ہیں اور نہ سب کچھ دیدو۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کے