انوارالعلوم (جلد 11) — Page 568
انوار العلوم جلد !! ۵۶۸ فضائل القرآن (۳) صدقہ کے متعلق ویدوں کی تعلیم اب ہم ویدوں کو لیتے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے ویڈ نہیں پڑھے وہ تو سمجھتے ہونگے کہ اتنی : اتنی بڑی بڑی ضخیم جلدیں ہیں نہ معلوم ان میں کیا کیا احکام ہونگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں احکام بہت کم ہیں۔ تاہم صدقہ و خیرات کی تعلیم کا ضرور ذکر ہے ۔ کا ضرور ذکر ہے۔ دید کہتے ہیں۔ جب برہم ب برہمن کوئی گائے مانگے تو اسے دے دینی چاہئے۔ جو نہ دے وہ گنہگار ہو گا اور جو دینے سے روکے وہ بھی گنہگار ہو گا۔ گویا (1) ایک طرف تو مانگنا سکھایا (۲) اور پھر ایک خاص قوم کو صدقہ دلایا۔ (۳) اور پھر کسی میں طاقت ہو یا نہ ہو اسے برہمن کو گائے دینے پر مجبور کیا خواہ اس کے بال بچے بھوکے مر جائیں۔ یہ دید میں صدقہ کی تعلیم ہے۔ چونکہ ہندوؤں میں برہمنوں کا زور تھا اس لئے سارا صدقہ یہی قرار دیا کہ برہمن کو دیا جائے۔ چاہے کوئی کتنا غریب آدمی ہو اس کی بیوی کا دودھ سوکھ گیا ہو اور اس کے بچے کی پرورش اسی گائے کے دودھ پر ہو رہی ہو جو اس کے گھر میں ہو پھر بھی اسے حکم ہے کہ جب برہمن گائے مانگے تو فورا دے دے۔ اگر نہ دے گا تو سخت گنگار ہو گا اور اس کا سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ شاہ ان ساری تعلیموں کو دیکھو۔ ان میں صدقہ جیسی عام اور موٹی تعلیم میں بھی مکمل طور پر راہنمائی نہیں کی گئی۔ اور جو لوگ کسی مذہب پر نہیں چلتے ان کے لئے ان کی اپنی مرضی راہنما ہوتی ہے۔ کسی کو جی چاہا تو دے دیا نہ چاہا تو نہ دیا ۔ گویا انسان نے اپنے تجربہ سے صدقہ و خیرات کے متعلق تو کوئی قانون نہیں بنایا۔ بعض مذہبوں نے قانون بنایا مگر ناقص بنایا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت مسیح علیہ السلام یا ہندوستان کے رشیوں نے ایسی نامکمل اور ناقص تعلیم دی تھی بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ان مذاہب کی موجودہ تعلیم ناقص ہے۔ اگر ان مذاہب کے بانیوں نے ہی تعلیم دی تو یہ ناقص ہے۔ اور اگر ان مذاہب کے پیروؤں نے بنائی تو ان کی مذہبی اور الہامی کتابیں ناقص ہیں۔ صدقہ خیرات کے اخلاقی معلمین کا قول ک نیکی کونیکی کی خاطر کرنا چاہتے ہیں تو وہ اتنے خود تعلیم بنائی ہے اور جو اخلاقی معلمین کہلاتے ہیں انہوں نے یہ اصل بتایا ہے کہ نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا چاہئے۔ سوائے اس کے اور کوئی بات صدقہ کے متعلق انہیں نہیں ملی۔ ہم ان کی اس بات کو پیش نظر رکھیں گے اور پھر دیکھیں گے کہ اسلام نے اس سے بہتر تعلیم دی ہے یا نہیں۔ فی الحال