انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 499

انوار العلوم جلد !! ۴۹۹ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل قدر میں نے پڑھا ہے اس سے ضرور اس قدر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصنیف موجودہ گنتھی کے سلجھانے کے لئے ایک دلچسپ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔ مسلمانوں کا نقطۂ نظر اس میں بہت وضاحت سے پیش کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ میں آپ سے جلد ملوں گا۔" Ο )LORD HALISHAM( لارڈ پیشم میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے وہ کتاب ارسال کی جس میں سائمن رپورٹ کے متعلق مسلمانوں کی رائے درج ہے۔ میں اس بات کی اہمیت کو سمجھتا ہوں کہ سائن رپورٹ کو خالی الذہن ہو کر پڑھنا بہت ضروری ہے اور اسے ناحق ہدفِ ملامت بنانا یا غیر معقول مطالبات پیش کرنا درست نہیں۔ اس لئے مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ مجھے اس کے متعلق ہندوستان کے ایک ذمہ دار طبقہ کی رائے پڑھنے کا موقع ملا ہے ۔“ لارڈ سٹڈ نہم میں اس بات کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مہربانی فرما کر مجھے جماعت احمدیہ کے خیالات سے جو ہر ہولی نس نے بڑی خوبی سے بیان فرمائے ہیں آگاہ ہونے کا موقع دیا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہنر ہولی نس اس خیال سے متفق ہیں کہ ہندوستان ابھی درجہ نو آبادیات کے لائق نہیں اور یہ کہ بہت سے دوسرے مبصرین کی طرح ہنر ہولی نس بھی اس خیال کے ہیں کہ انگریزی DEMOCRACY کے نمونہ پر ہندوستان کی حکومت ہونی چاہئے۔ مگر شاید انہیں یہ پتہ نہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پریزیڈینٹ اپنے وزراء خود چھاتا ہے اور یہ وزراء اس کے سامنے جواب دہ ہو۔ دہ ہوتے ہیں نہ کہ ملک کی کانگریس کے سامنے ۔ منے۔ فیڈرل نظام پر عملدرآمد کرنے میں بعض خاصی دقتیں ہیں۔ اضلاع متحدہ امریکہ کو چار سال کی جنگ اور دس لاکھ آدمیوں کی جانوں کی قربانی کے بعد یہ درجہ ملا تھا۔ فی الحال جیسا کہ سائمن کمیشن کی رائے ہے ہندوستان فیڈرل حکومت کے قابل نہیں ہوا۔ کبھی ہندوستان کے سے حالات میں کسی ملک میں فیڈرل حکومت قائم نہیں ہوئی۔ فیڈریشنیں قدرتی طور پر خود بخود بن جایا کرتی ہیں جب لوگ ان کے لئے تیار ہوں۔ ہندوستان کو جو بہت کافی حد تک حکومت خود اختیاری دی جا چکی ہے اس پر جو کچھ بغیر کسی قسم کے خطرہ کے مستزاد کیا جا سکے اس میں دریغ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن میرے خیال میں سب سے اہم معاملہ پبلک کی بہودی کا ہے جسے کانگریس اور بالشویک خیال کے لوگ مزید نقصان پہنچا