انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 22

انوار العلوم جلد 11 ۲۲ ہدایت کے متارش کو کیا کرنا چاہئے جائے تو ان معنی سے تو اُمت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا یہاں مَعَ بمعنی مِنْ یعنی " سے " کے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ استعمال موجود ہے ۔ چنانچہ آیا ہے ۔ تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ کے یعنی نیکوں میں سے کر کے مارے یہ معنی نہیں کہ جب کوئی نیک بندہ مرنے لگے تو ہمیں بھی اس کے ساتھ وفات دے دے۔ پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آنحضرت میں ایم کی اتباع سے مقام نبوت بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت میں تعلیم کی اتباع سے جو نبی بنے گا۔ اس کی نبوت دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں ہوتی ہے آنحضرت میں ایم کی نسبت سے وہ امتی ہوتا ہے۔ پس ایسی نبوت کے حصول میں آنحضرت میں اللہ کی کسر شان نہیں۔ حدیث میں آیا ہے لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِى هو یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔ پس اگر نبی کے ماتحت ہونے سے کسر شان ہوتی تو رسول کریم ملی یہ نہ فرماتے ۔ حضرت مرزا صاحب باوجود دعوی نبوت کے امتی ہونے پر فخر کیا کرتے تھے اور آنحضرت ملی تعلیم کی غلامی کے اظہار میں عزت سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ کا یہ مشہور شعر ہے۔ الله کرامت گرچه بی نام و نشان است بیا بنگر ز غلمان اسی طرح آپ اپنے فارسی الہامی قصیدہ میں فرماتے ہیں۔ محمد بعد از خدا بعشق محمد مخترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم آپ نے آنحضرت صلی اللہ کی وہ نعتیں لکھیں جن کا پہلی نعتیں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ آپ سے پہلے کی کمی ہوئی نعتیں صرف زلفوں گیسوؤں کے ذکر پر مشتمل ہوتی تھیں۔ اور کہ آنحضرت میں ہم کا سایہ نہ تھا وغیرہ۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی نعتیں کہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں اور کمالات کا ذکر کیا۔ ان نعتوں کا موازنہ صرف مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ ایک شخص نے جب مجھ سے سوال کیا آنحضرت میں تعلیم کی جو بھی نعت دیکھی جائے اس میں آپ کے کمالات کا ذکر نہیں ہوتا، آپ کی خوبیوں کا ذکر نہیں کیا جاتا صرف گیسوؤں اور