انوارالعلوم (جلد 11) — Page v
1 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے فضل عمر فاؤنڈیشن کو سید نا حضرت المصلح الموعود خلیفة المسیح الثانی کی پُر معارف تصانیف ” انوار العلوم کی گیارہویں جلد احباب جماعت کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ فالحمد لله على ذلک سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں میں سے پیشگوئی مصلح موعود کا مقام اپنی جگہ پر ایسا پُر عظمت اور پُر شوکت ہے کہ اس کے جس پہلو پر جتنا جتنا غور کرتے چلے جائیں روحانی عظمت و شان کے حیرت انگیز پہلو سامنے آتے رہتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود کی تحریرات و تقاریر پر مشتمل انوار العلوم کی اشاعت کا جو سلسلہ جاری ہے اس کا لفظ لفظ اور سطر سطر اس رفیع الشان پیشگوئی کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ زیر نظر مجموعہ ( میں جو انوار العلوم کی گیارہویں جلد ہے ) حضور کی ستمبر ۱۹۲۹ء سے دسمبر ۱۹۳۰ ء تک کی تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے۔ اس میں دو جلسہ ہائے سالانہ ۱۹۲۹٬۳۰ء کی تقاریر سمیت کل میں خطابات و تحریرات شامل ہیں۔ یوں تو ایک ایک تحریر اور ایک ایک تقریر روحانی لطف و مسرت کا ایک نمونہ ہے لیکن بعض بعض باتیں ایسی سامنے آ جاتی ہیں جو ہر احمدی کو چونکا کر رکھ دیتی ہیں ۔ قادیان میں مذبح خانہ کے انہدام کا جو واقعہ ہوا اور مقامی ہندؤوں اور سکھوں نے جس ظالمانہ طریق پر یہ مذبح خانہ گرایا اس پر اس پر حضور نے جو ردِ عمل دکھایا اس جو رد عمل دکھایا اس کی ایک جھلک ملاحظہ احظہ کریں ۔ آپ نے فرمایا : مو من اگر ایک وقت اپنی نرمی آشتی اور صلح جوئی کے ثبوت کیلئے ہر ایک قربانی کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے تو جس وقت اس کی اس آزمائش اور اس امتحان کو وو ایسے مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے جہاں سے آگے چلنے سے شریعت اسے روک دیتی ہے