انوارالعلوم (جلد 11) — Page 466
انوار العلوم جلد )) ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ہے مہذب ملکوں کا ابھی تک یہ حال ہے کہ لوکل معاملات کو لوگ مقدم رکھتے ہیں۔ چنانچہ میرے سفر انگلستان کے موقع پر ایک با اثر کانسر ویٹو ممبر پارلیمنٹ نے مجھے بتایا تھا کہ ہمارے یہاں )CONSERVATIVE MEMBER PARLIAMENT( اس قدر اس شخص کے سیاسی خیالوں کو نہیں دیکھا جاتا جس قدر اس امر کو کہ اس نے اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے لئے کیا کیا ہے۔ اگر کوئی اپنے حلقہ کے لوگوں کے لئے مفید ثابت ا ہو تو پھر بہت سے لوگ جو ۔ لوگ جو سیاسی اصول کی طرف سے بے پرواہ ہوتے۔ بے پرواہ ہوتے ہیں اسے ووٹ دے دیتے ہیں۔ پس جب اس ملک میں جس میں اس قدر عرصہ سے نمائندہ حکومت چلی آ رہی ہے ہوا ہوا لوگوں کا یہ حال ہے تو ہندوستان کا کیا حال ہو گا۔ آ چوتھا نقص اس طریق انتخاب سے یہ پیدا ہو گا کہ چونکہ کونسلوں کے ممبروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ممبروں کو بھی اسمبلی کے لئے چن سکتے ہیں اور ایسے چنے ہوئے ممبر چاہیں تو دونوں مجالس کے ممبر رہ سکتے ہیں اکثر ایسا ہی ہو گا کہ ممبر آپس میں ہی ایک دوسرے کو اسمبلی کے لئے چن لیں گے اور پھر وہ دونوں عزتوں کو جمع رکھنے کے لئے دونوں ہی مجالس کے ممبر رہیں گے۔ جس سے یہ نقص پیدا ہو جائے گا کہ تمام حکومت دھڑا مت دھڑا بندی کے اثر کے نیچے جائے گی اور لانگ پارلیمنٹ (LONG PARLIAMENT) کے ممبروں کی طرح ملک کا سب اختیار ایک خاص پارٹی کے قبضہ میں آ جائے گا۔ اور پھر ایک ہی وقت اگر اجلاس ہونگے اور ضرور اکثر اوقات ایسا ہی ہو گا تو دونوں مجالس یعنی صوبوں کی اور مرکزی، نقصان اٹھائیں گی کیونکہ نہ ممبر اس طرف توجہ دے سکیں گے اور نہ اُس طرف۔ اگر یہ شرط بھی کر دی جائے کہ جو صوبہ کی کونسل کا ممبر اسمبلی کے لئے چنا جائے وہ کونسل سے استعفیٰ دے دے تو پھر ہر انتخاب کے موقع پر فورا ہی ایک معقول تعداد کے حلقوں میں ان لوگوں کی جگہ پر کرنے کے لئے دوبارہ انتخاب کرنا پڑے گا جسے لوگ قدر تا نا پسند کرتے ہیں۔ غرض یہ طریق انتخاب نہ صرف خلاف عقل ہے اور اصول سیاست کے مخالف ہے بلکہ مسلمانوں کے لئے خصوصاً اور ملک کے لئے عموما سخت مضر ہے۔ اس سے مرکزی حکومت بھی بہت کمزور ہو جائے گی اور یقینا درجہ نو آبادیات کے حصول میں دیر واقع ہوگی ۔ پس اسمبلی کا انتخاب براہ راست پلک کی طرف سے ہونا چاہئے اور اس میں مسلمانوں کا حق مجدا گانہ انتخاب کا قائم رہنا چاہئے۔