انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 465

انوار العلوم جلد !! ۴۶۵ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل کے آدمی ضروری نہیں کہ سیاسی طور پر بھی ایک ہی خیال کے ہوں۔ اور جب سیاسی اختلاف ہو تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ انسان صرف اس وجہ سے ایک امیدوار کو ووٹ دے کہ وہ اس کا ہم مذہب ہے۔ دوسری دلیل اس طریق نمائندگی کے خلاف یہ ہے کہ اس سے حلقہ انتخاب بہت محدود جاتا ہے یعنی مختلف صوبوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک سو سے تین سو تک ممبر ہونگے جو اسمبلی کے نمائندے چنیں گے اور اس قدر قلیل تعداد ووٹروں کی ہو تو دوستیاں بھی اور رشوتیں بھی ہو بہت اثر کرتی ہیں۔ پس یہ طریق انتخاب اخلاقی بگاڑ کا زیادہ موجب ہو گا۔ جب حلقہ وسیع ہو تب بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں لیکن نہ کوئی انسان ہزاروں آدمیوں سے دوستانہ طور پر روٹ لے سکتا ہے اور نہ ان کو لالچ دے سکتا ہے۔ ہوں 6 تیرے کو نسلوں اور اسمبلی کے فرائض بالکل مجدا گانہ ہونگے یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ہی شخص کے ذریعہ سے دونوں امور کا ملک خیال رکھ سکے نتیجہ یہ ہو گا کہ اسمبلی کبھی بھی ملک کی صحیح نمائندہ نہیں ہوگی۔ یہ امر بالکل عقل میں نہیں آسکتا کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں مقامی اور مرکزی دونوں مجالس کی ضروریات کو ملک کے سامنے پیش کر سکے گا اور وہ کر بھی کب سکتا ہے جب کہ وہ خود دوسری مجلس کا امیدوار ہی نہیں۔ اور اگر کوئی امیدوار ہو بھی تو بھی وہ بسا اوقات اپنے خیالات اسمبلی کے کام کے متعلق ظاہر نہیں کر سکے گا کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ اس کے خیالات مقامی کونسل کے کاموں کے متعلق تو اپنے علاقہ کے اکثر ووٹروں سے متفق لیکن اسمبلی کے معاملات کے متعلق مختلف ہوں۔ کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ وہ اپنے اس اختلاف کو ظاہر کر کے اپنے انتخاب کے مواقع کو خراب کرلے گا؟ اور اگر وہ ظاہر بھی کرے تو اکثر ووٹر ایسے ہوں گے کہ اگر مقامی اور مرکزی سوالوں کا مقابلہ آپڑے تو وہ مقامی سوال کو ترجیح دیں گے۔ پس اگر ایک مقامی کونسل کا مناسب امیدوار مرکزی امور میں خلاف رائے بھی رکھتا ہو تب بھی بہت سے ووٹر مقامی معاملات کے اتحاد کی وجہ سے اس کے حق میں رائے دیں گے اور اس طرح اسمبلی ملک کی نمائندگی سے بالکل محروم رہ جائے گی اور صرف اس وجہ سے که مقامی کونسلوں کے ممبر اس کے ممبروں کا انتخاب کریں گے اسے ملک کا نمائندہ کہنا درست نہ ہو گا۔ اور کوئی شخص جو سیاسیات کے مباری سے بھی واقف ہے اس طرح منتخب ہونے والی اسمبلی کو ملک کی نمائندہ اسمبلی نہیں کہہ سکے گا۔ ہندوستان تو ابھی تعلیم میں بہت پیچھے