انوارالعلوم (جلد 11) — Page 454
انوار العلوم جلد )) ۴۵۴ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ہے اور ڈر ہے کہ طبائع کی بے چینی مقصد کے پورا ہونے میں روک نہ بن جائے۔ ان اصول کے ماتحت عارضی مرکزی نظام کیلئے مندرجہ ذیل سکیم کا اختیار کرنا بہتر ہو گا۔ نو آبادی کے درجہ کی حکومتوں میں حکومت کا محور گورنر جنرل ہوتا ہے (۱) گورنر جنرل کیونکہ وہ ملک معظم کا قائم مقام سمجھا جانے کی وجہ کی وجہ سے اس رشتہ اتحاد کی ظاہری کڑی ہوتا ہے جو برطانوی امپائر (EMPIRE) کے مفہوم میں مرکوز ہے۔ گورنر جنرل کی حیثیت ان نو آبادیات میں جو درمیانی مقام آزادی کے طے کر چکی ہیں کلی طور پر آئینی ہوتی ہے لیکن ہندوستان میں چونکہ ابھی کچھ مدت تک کامل اختیارات مرکزی اسمبلی کو نہیں دیئے جا سکتے لازماً وہ محفوظ اختیارات ایگزیکٹو (EXECUTIVE) کو حاصل ہونگے اور بوجہ اس کے گورنر جنرل ایگزیکٹو کا سردار بھی ہو گا اور ملک معظم کا نمائندہ بھی ، اس لئے اس کے نام سے وہ اختیارات برتے جائیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی چونکہ وہ ہندوستان کے درجہ نو آبادی کے حصول کے ساتھ ہی ایک آئینی گورنر کی حیثیت میں بدل چکا ہوگا اس لئے میرے نزدیک گورنر جنرل کے اختیارات آئندہ تین قسم میں تقسیم ہونے چاہئیں۔ (1) وہ اختیارات جو اسے مستقل طور پر حاصل ہونگے یعنی اس زمانہ میں بھی حاصل ہونگے جب کہ عملاً ہندوستان کی حکومت کا ہر حصہ درجہ مستعمرات کی آزادی کو حاصل کر چکا ہو گا۔ یہ اختیارات وہی ہوں گے جو دوسری نو آبادیوں کے گورنروں کو حاصل ہیں اور گورنر جنرل انہیں انہی قیود کے ساتھ استعمال کر سکے گا جن قیود کے ساتھ کہ نو آبادیوں کے گورنر انہیں استعمال کرتے ہیں۔ (۲) وہ اختیارات وه اختارات جو اسے عار عارضی طور پر حاصل ہونگے لیکن مرکزی اسمبلی کے برسراقتدار ہونے پر وہ اس کی طرف منتقل ہو جائیں گے جیسے آرڈینینس (ORDINANCE) وغیرہ قسم کے اختیارات یا وزارت مقرر کرنے کے یا اس کے کاموں میں تصرف کرنے کے اختیارات (۳) کوئی ایسے اختیارات جو صوبہ جاتی معاملات کے متعلق اس کے ہاتھ میں کچھ عرصہ کیلئے رکھے جائیں۔ یہ اختیارات جس وقت ختم ہو نگے یا تو باطل ہو جائیں گے یا صوبہ جاتی کو نسلوں کے پاس چلے جائیں گے اسمبلی کو حاصل نہیں ہونگے ۔ اگر اس تقسیم کو مد نظر نہ رکھا گیا تو لازما گورنر جنرل کے وقتی اختیارات اسمبلی کے طاقت