انوارالعلوم (جلد 11) — Page 453
انوار العلوم جلد 1 ۴۵۳ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کامل باب ہفتم مرکزی حکومت کا وقتی انتظام میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس وقت نہ ہندوستان کے حالات اجازت دیتے ہیں کہ حکومت خود اختیاری کے طریق کو پوری طرح ہندوستان کی مرکزی حکومت میں قائم کیا جائے اور نہ نئے انتظام کے ماتحت جب تک صوبہ جات اپنے اپنے علاقہ کے انتظام کو نہ سنبھال لیں، مناسب ہی ہے کہ ایسا کیا جائے اس لئے اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک وقتی حکومت کے قانون کے ڈھانچہ کی بنیاد کن اصول پر رکھنی چاہئے۔ میرے نزدیک اس نظام کے بناتے ہوئے ہمیں مندرجہ ذیل اصول کو مد نظر رکھنا چاہئے:۔ (1) ہم مرکزی حکومت کی بنیاد ایسے اصول پر رکھیں کہ بجائے اس کے کہ کسی وقت اسے بدل کر ایک نیا نظام اس کی جگہ قائم کرنا پڑے ہم اس میں تغیر پیدا کرتے ہوئے اسے مکمل کر سکیں۔ کیونکہ جب کبھی ایک بالکل نیا نظام بنایا جاتا ہے تو اس میں کئی قسم کی خامیاں رہ جاتی ہیں جن کے دور کرنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے لیکن ایک نظام کو درجہ بدرجہ تبدیل کرتے ہوئے مکمل کرنے میں یہ خطرہ نہیں ہوتا۔ (۲) ہمیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ جو نظام بھی قائم ہو اس کے ذریعہ سے ہندوستانیوں کی ایسی تربیت ہوتی جائے کہ جب بھی ان کے ہاتھ میں کام آئے تو وہ اسے سنبھال سکیں۔ (۳) ہمیں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ اس نظام میں یہ احتیاط کر لی جائے کہ وہ ہماری اصل سکیم کیلئے مددگار ثابت ہو۔ (۴) اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہم کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو مرکزی نظام میں ہندوستانیوں کے دخل کو موجودہ دخل سے کم کر دے کیونکہ اس سے بھی فتنہ کا احتمال