انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 424

انوار العلوم جلد ! ۲۲۴ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل کیونکہ دوسری مجالس کی شکلیں کئی قسم کی ہیں۔ ایسے قوانین بنائے جاسکتے ہیں جن سے اس امر کی حفاظت ہو جائے کہ جو کام ہم ان مجالس سے لینا چاہتے ہیں وہ بھی لئے جاسکیں اور بلاوجہ کسی کا حق بھی نہ مارا جائے ۔ پس ان سب حالات کو مد نظر رکھ کر میرا خیال یہ ہے کہ مرکزی حکومت میں فورا سیکنڈ چیمبر جاری کی جائے مگر وہ کسی اصول کے ماتحت ہو۔ یہ نہ ہو کہ بجائے پہلی اور دوسری مجلس کے دو مجالس عام قائم ہو جائیں اور یونہی وقت اور روپیہ ضائع ہو ۔ صوبہ جات کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ ابھی چونکہ نیابتی حکومت سے ہندوستان پورا واقف نہیں اس لئے قانون اساسی میں تو اس کے وجود کو تسلیم کر لیا جائے لیکن شرط یہ کر دی جائے کہ پندرہ سال کے بعد ہر مقامی کونسل کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنی کثرت رائے سے دوسری مجلس کے قیام کا فیصلہ کر دے ۔ لیکن قواعد دوسری چیمبر کے یا کم سے کم اس کے لئے اصول ابھی سے مقرر کر دیئے جائیں۔ دوسری مجلس کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ اس کی ضرورت بہت اہم ہے اسے فوراً قائم کر دینا چاہئے مگر اس شکل میں نہیں جس میں ماننیگو چیمسفورڈ سکیم نے اسے قائم کیا ہے بلکہ اس کی اصل صورت جس کا بیان میں اِنْشَاء الله مرکزی حکومت کے ذکر میں کروں گا۔