انوارالعلوم (جلد 11) — Page 423
انوار العلوم جلدا ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کامل ۔ منتخب ممبر ہوتے ہیں اور نہ مجلس قانون ساز کو ان پر کوئی تصرف حاصل ہوتا ہے پس دوسری مجلس دونوں حصوں میں تعلق قائم رکھنے کا کام دیتی ہے۔ چنانچہ امریکن SENATE کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ ایک طرف تو مجلس عام کے پاس شدہ قوانین کی نظر ثانی کرتی ہے دوسری طرف پریزیڈنٹ کو جو حکومت کے محکمہ تنفیذ کار کیس ہے اس کے کام میں مشورہ دیتی ہے یعنی معاہدات کی منظوری کے متعلق، سفیروں اور ججوں کے مقرر کرنے کے متعلق اور بعض ایسے ہی اور کاموں کے متعلق۔ (۱۰) دسواں فائدہ ا فائدہ دوسری چیمبر کا جو فیڈرل حکومتوں میں۔ ومتوں میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے یہ ہے کہ دوسری چیمبر فیڈرل حکومت کے صوبوں یا ریاستوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے اور مجلس عام کو جو افراد کی نمائندہ ہوتی ہے ریاستوں کے حقوق تلف نہیں کرنے دیتی۔ اس وجہ سے فیڈرل حکومتوں میں عام طور پر دوسری مجلس کا انتخاب ایسے اصول پر رکھا جاتا ہے کہ وہ افراد کی بجائے علاقوں کی نمائندہ ہوں تاکہ علاقوں کی آزادی کا خیال رکھ سکیں۔ یہ دس موٹے موٹے فائدے سیکنڈ چیمبر ( SECOND CHAMBER) کے ہیں۔ اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ بعض تو صرف خاص شکل کی دوسری مجلس میں پائے جا سکتے ہیں اور بعض ہر دوسری مجلس میں جمع ہو سکتے ہیں۔ ان فوائد کو مجموعی حیثیت سے دیکھنے کے بعد معلوم ہو سکتا ہے کہ دوسری چیمبر کا وجود بھی بغیر مقصد کے نہیں ہے۔ اور اس کے مخالفین کا اعتراض کہ اگر وہ مجلس عام کے موافق ہے تو غیر ضروری ہے اور اگر مخالف ہے تو موجب تباہی ہے محض ایک ظاہر فریب دلیل ہے۔ دوسری چیمبر نہ پہلی کے موافق ہے نہ مخالف بلکہ وہ اس کا تمہ ہے اور اس وجہ سے نہ زائد ہے نہ کام کو خراب کرنے والی۔ مانٹیگو چیمسفورڈ سکیم میں دوسری چیمبر کے خلاف تین اعتراض کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے کام پیچیدہ ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ اس قدر لائق آدمی نہ مل سکیں گے کہ دو چیمبرس کا کام چلایا جا سکے۔ تیسرے یہ کہ خاص فوائد والوں کو غیر ضروری حفاظت حاصل ہو جائے گی۔ مگر یہ تینوں اعتراض درست نہیں۔ پیچیدگی اس میں کوئی ہے نہیں۔ سب دنیا میں دوسری چیمبرس کام کر رہی ہے۔ آدمیوں کا سوال عارضی ہے۔ اگر دوسری مجلس کی ضرورت ثابت ہو تو اس کا اجراء دس پندرہ سال بعد کیا جا سکتا ہے۔ اور تیسرا اعتراض بھی درست نہیں