انوارالعلوم (جلد 11) — Page 383
انوار العلوم جلد 11 ۳۸۳ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل میں اس طرح اس امر پر یقین رکھتا ہوں جس طرح کہ میرا خیال ہے کہ آپ لوگ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان میں انتخاب کا حق اگر صرف ایک فرد رعایا ہونے کی حیثیت سے دیا گیا اور مذہب اور رسم و رواج کے اس فرق کو نظر انداز کر دیا گیا جو اس براعظم میں بسنے والی اقوام میں پایا جاتا ہے تو یہ انتظام یقیناً بری طرح برباد ہو گا اور ناکام رہے گا۔" اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ لارڈ منٹو ( LORD MINTO) نے تسلیم کیا تھا کہ :۔ (1) مسلمانوں کو مشترکہ انتخاب کے ذریعہ سے نہ تو ان کے حق کے برابر نیابت مل سکتی ہے اور نہ ان کے صحیح نمائندے ہی منتخب ہو سکتے ہیں۔ (۲) مسلمانوں کو حق صرف تعداد کے مطابق ہی نہیں ملنا چاہئے بلکہ ان کی پولیٹیکل حیثیت کے لحاظ کو مد نظر رکھ کر ان کی تعداد سے زائدہ حق ملنا چاہئے۔ چنانچہ اس اعلان کے مطابق گورنمنٹ آف انڈیا نے مارے منٹو ریفامز سکیم میں مسلمانوں کے حقوق کی علیحدہ MORLEY MINTO REFORMS SCHEME( نمائندگی کے متعلق کچھ قوانین تجویز کئے ۔ جو ۱۹۱۰ء میں نافذ کئے گئے ۔ بهر حال حکومت برطانیہ کا ایک ذمہ دار افسر اس امر کا صریح طور پر اقرار کر چکا ہے کہ علیحدہ نمائندگی کے بغیر نہ کمیت کے لحاظ سے اور نہ کیفیت کے لحاظ سے مسلمانوں کا حق انہیں مل سکتا ہے جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ اس ملک میں اکثریت اقلیت کے حقوق تلف کرنے کے لئے اپنی ساری قوت خرچ کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں جُدا گانہ انتخاب کے جس قدر نقائص بھی فرض کئے جائیں ان کی ذمہ داری ہندوؤں پر پڑتی ہے نہ کہ مسلمانوں پر ۔ اور ان حالات میں علیحدہ نمائندگی کا حق کوئی رعایت نہیں جس کے بدلہ میں کوئی اور حق مسلمانوں سے لیا جائے یا ان سے کسی قسم کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے بلکہ یہ طریق صرف ان کے جائز حقوق کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہے۔ نے )MONTAGUE CHELMSFORD (REPORT( مانٹیگو چیمسفورڈ رپورٹ بھی اس امر کا تذکرہ کیا ہے اور سائمن کمیشن نے بھی اسے تسلیم کیا ہے کہ علیحدہ نمائندگی ہندوستان کی موجودہ حالات میں ضروری ہے۔ پس کسی نتیجہ پر پہنچتے وقت پہلے اس امر کو ضرور مد نظر رکھنا چاہئے کہ علیحدہ نمائندگی کی ضرورت مسلمانوں کے کسی فعل کے سبب سے نہیں بلکہ