انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 382

انوار العلوم جلد 1 ۳۸۲ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل جداگانه انتخاب اور مختلف اقوام کا حق نیابت اب میں مجدا گانہ انتخاب کے سوال کو لیتا ہوں۔ یہ سوال اس وقت سیاسیات ہند میں اہم ترین سوال بن رہا ہے اور مختلف اقوام کے حق نیابت کا سوال بھی اسی کے گرد چکر کھا رہا ہے۔ مسلمانوں کے لئے جدا گانہ انتخاب اور تعداد سے زیادہ نیابت کا حق صاف الفاظ میں لارڈ منٹو (LORD MINTO) نے منظور کیا تھا۔ ان کے الفاظ سر آغا خان کی قیادت میں پیش ہونے والے ڈیپوٹیشن (DEPUTATION) کے جواب میں یہ تھے۔ آپ لوگوں نے بیان کیا ہے کہ موجودہ قواعد کی بناء پر جو جماعتوں کو نسلوں کے ممبر منتخب کرتی ہیں ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی مسلمان امیدوار کو منتخب کریں گی اور یہ کہ اگر اتفاقاً وہ ایسا کر بھی دیں تو یہ اسی صورت میں ہو گا کہ وہ امیدوار اپنی قوم سے غداری کرتے ہوئے اپنے خیالات کو اکثریت کے ہاتھ فروخت کر دے اور اس وجہ سے وہ امید وار اپنی قوم کا نمائندہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح آپ لوگ بالکل جائز طور پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کے حقوق کا فیصلہ صرف آپ کی قوم کی تعداد کو مد نظر رکھ کر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس فیصلہ کے وقت آپ کی قوم کی سیاسی اہمیت کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے اور ان خدمات کو بھی ، نظر رکھنا چاہئے کہ جو اس نے حکومت برطانیہ کی تائید میں کی ہیں۔ میں بالکل آپ کے اس خیال سے متفق ہوں۔ XXXXXXXXXX