انوارالعلوم (جلد 11) — Page 371
انوار العلوم جلد ! ۳۷۱ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل وزارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ ذمہ داری میں اس کے ساتھ شریک ہو جائے۔ انسان ذمہ داری تو اس کی لیتا ہے جس کے ساتھ کام کرنے کی رغبت وہ اپنے اندر محسوس کرتا ہے لیکن جس ساتھی کو دو سرا منتخب کرتا ہے اس کے ساتھ وہ ذمہ داری میں کس طرح شریک ہو ہے؟ دنیا کی مختلف وزارتوں کو دیکھ لو مشترکہ ذمہ دار داری انہی ملکوں میں ہے جہاں وزیر اعظم ۔ سکتا ہے ؟ سے ہو اپنی وزارت منتخب کرتا ہے۔ جہاں انتخاب دوسرے کے ہاتھ وہاں گو سب مل کر کام کرنیکی کوشش کرتے ہیں لیکن ذمہ داری مشترکہ نہیں ہوتی۔ یعنی یہ نہیں ہوتا کہ ایک کے فعل پر نکتہ چینی ہونے پر سب ہی مستعفی ہو جائیں ۔ انگلستان اور فرانس میں ایک وزیر اپنے همراهی منتخب کرتا ہے اس لئے وہاں وزار وہاں وزارت کی ذمہ داری بھی مشترکہ ہے۔ لیکن یونائیٹڈ سٹیٹس اور سوئٹزر لینڈ میں سب وزراء الگ الگ مجھنے جاتے ہیں۔ اول الذکر میں پریزیڈنٹ وزراء کا انتخاب کرتا ہے اور اور مؤخر الذکر میں دونو پارلیمنٹیں مل کر وزراء کا انتخاب کرتی ہیں۔ پس وہاں ذمہ داری بھی مشترکہ نہیں ہے۔ اگر ایک وزیر کو پریزیڈنٹ اپنی ذاتی یا ملک کی ناراضگی کی وجہ علیحدہ کرنا چاہے تو دوسرے وزراء پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اور نہ سونا سوئٹزر لینڈ میں اگر ایک وزیر کے کام پر اعتراض ہو اور وہ استعفاء د اء دے تو سب پابند نہیں کہ وہ بھی ساتھ استعفاء سے دے دیں۔ پس یہ عقل کے خلاف ہے کہ وزراء کا انتخاب تو گورنر کرے اور ذمہ داری سب کی مشترکہ ہو ۔ ذمہ داری مشترکہ تبھی ہو سکتی ہے جب کہ پارٹی سسٹم پر ایک وزیر اپنی پارٹی یا اپنے ساتھ اتحاد رکھنے والی پارٹیوں میں سے باقی وزراء کو منتخب کرے پس کمیشن کی تجویز ہرگز قابلِ عمل نہیں۔ ہاں چونکہ سردست سول سروس کے افسروں سے کام لینا میرے نزدیک ضروری ہے اس لئے درمیانی راہ میرے نزدیک یہ ہو سکتی ہے کہ یہ شرط کر دی جائے کہ وزارت عالیہ کے لئے جس شخص کو چنا جائے اس کا فرض ہو کہ مثلاً آج سے پندرہ سال تک کم سے کم ایک یورپین سول سرونٹ کو وہ اپنی وزارت میں شامل کرے لیکن اس افسر کی تعیین گورنر کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے اختیار میں ہو جس کے سپر د وزارت تیار کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ جس افسر کو وہ چنے اسے مجبور کیا جائے کہ وہ وزارت کے کام کو قبول کرے۔ بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے افسروں میں سے کسی کو اس کام کے لئے راضی کرے۔ پندرہ سال کے بعد ہر صوبہ کی کونسل کو اختیار ہو کہ وہ حقیقی