انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 370

انوار العلوم جلد !! ٣٧٠ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل معلوم ہوتے ہیں مگر میرے نزدیک ان کا مغز اثر صوبوں کی سیاسی ارتقاء پر پڑے گا کیونکہ یہ سب اصول پارٹی سسٹم کو کمزور کرنے والے ہیں۔ مثلاً یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ کونسلوں میں پارٹیوں کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ اپنے جزوی اختلافات کو اس لئے ترک کر دیتے ہیں کہ تا اصول متفقہ کو اپنی پارٹی کے زور سے اپنے ملک میں جاری کر سکیں۔ اور اصول کے جاری کرنے کا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایگزیکٹو پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کو نسلوں سے باہر کے لوگوں کو بھی اگر وزارت پر مقرر کرنے کی اجازت ہوئی تو کونسلوں میں پارٹیوں کے بنانے کی کوئی غرض باقی نہیں رہے گی اور ممبر اس میں زیادہ فائدہ دیکھیں گے کہ وہ ہر ایک پارٹی سے الگ رہیں تاکہ پوری حریت سے رائے دے سکیں۔ اس صورت میں انہیں کوئی مجبوری نہ ہوگی کہ وہ اپنے خیالات کے ایک حصہ کو قربان کر کے کسی خاص جماعت سے اپنے آپ کو وابستہ کر دیں کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ پارٹی کی طاقت سے وزارت کا سوال وابستہ نہیں ہے۔ پس بہتر ہے کہ ہم الگ ہی رہ کر کام کریں تاکہ ہماری حریت پوری طرح قائم رہے۔ نیز یہ بھی خیال کرنا چاہئے کہ سول سروس سے کسی وزیر کو لینے کی اجازت دینے کی وجہ تو موجود ہے، یعنی ایک غیر ملک کا شخص اور سرکاری عہدیدار کو نسلوں میں نہ قانوناً آسکتا ہے، نہ اپنے رسوخ سے آسکتا ہے ادھر اس کے تجربہ سے بھی ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ پس اس کا یہی طریق ہو سکتا ہے کہ اسے ہم براہ راست وزارت پر مقرر کر دیں۔ لیکن ایک ایسا شخص جو ملازم بھی نہیں اور اس ملک کا باشندہ بھی ہے اور بالکل آزاد ہے کہ کوشش کر کے کونسلوں میں آسکے وہ اگر کو نسلوں میں آنے کی زحمت برداشت نہیں کرتا تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے وزارت کے کام پر مقرر کر کے اس سیاسی نظام کو جس پر کونسلوں کی زندگی کی بنیاد ہے تباہ کر دیا جائے۔ باقی رہی یہ اجازت کہ گور نر چاہے تو سول سروس میں سے کسی شخص کو وزارت پر مقرر کر دے میں ذاتی طور پر اس کا مؤید ہوں کیونکہ میرے نزدیک ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کلی طور پر برطانوی حکام کے مشورہ سے ہندو۔ ہندوستانی حکومت آزاد ہو سکے لیکن یہ اصول کہ گورنر اپنی مرضی سے ایک آدمی کو سول سرونٹس (CIVIL SERVANTS) میں سے وزارت کے لئے مقرر کر دیا کرے کسی طرح درست نہیں۔ اور اس متحدہ ذمہ داری کے اصول کے خلاف ہے، جسے سائمن کمیشن جاری کرنا چاہتا ہے۔ عقل اسے کسی طرح باور کر سکتی ہے کہ ایک شخص کو جو کونسلوں پر کوئی اثر نہیں رکھتا گور نر اپنی مرضی سے وزارت میں داخل کر دے اور پھر ساری