انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxix
انوار العلوم جلدا کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ۳۲ تعارف کتب " مسیح موعود کے آنے پر جو تفرقے اُٹھے یہ پہلے ہی تھے نئے نہیں "۔ (۱۹) بعض اہم اور ضروری امور یہ تقریر حضور نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۲۷ دسمبر ۱۹۳۰ء کو دوران سال وقوع پذیر ہونے والے متفرق واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوئے فرمائی۔ اول تو حضور نے اس بات س بات پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے پھر جماعت کو اس سنت کو پورا کرنے کی توفیق دی جو بانی سلسلہ احمدیہ نے اللہ تعالیٰ کے منشاء سے جلسہ سالانہ کی صورت میں قائم کی۔ پھر فرمایا کہ اس سال جماعت پر بہت بڑا ابتلاء آیا چند فتنہ پردازوں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ایک طرف جماعت کے لوگوں کی غیرت اور حمیت کا امتحان تھا اور دوسری طرف اپنے نفس پر قابو رکھنے کا مشکل کام تھا۔ گویا رو آگیں تھیں جن میں وہ کھڑے تھے۔ اور جہاں یہ دو آگیں جمع ہو جائیں وہاں بڑے بڑے عقلمندوں کی عقل بھی ماری جاتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت ان حالات میں پوری طرح کامیاب ہوئی۔ اس نے غیرت بھی دکھائی اور اپنے نفس کو بھی قابو میں رکھا۔ اس سال دشمن نے یہ جھوٹی خبر اخبارات میں شائع کروادی کہ امام جماعت احمد یہ وفات پاگئے ہیں۔ اس سے احباب جماعت کو سخت صدمہ اور تکلیف ہوئی تاہم اس خبر نے جماعت کے اخلاص اور محبت کے جذبات کو نکال کر باہر رکھ دیا اور اخلاص و فدائیت کا غیر معمولی اظہار ہوا۔ اس پر حضور نے خوشنودی ظاہر کی نیز احباب جماعت کو انتخاب خلافت کے سلسلہ میں خاص نصیحت کی۔ آپ نے فرمایا :۔ یاد رکھو! اسلام اور احمدیت کی امانت کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور جماعت کو تیار رہنا چاہئے کہ جب بھی خلفاء کی وفات ہو جماعت اس شخص پر جو سب سے بہترین خدمت دین کر سکے اللہ تعالٰی سے دعا کرنے اور اس سے الہام پانے کے بعد متفق ہو جائے گی۔ انتخاب خلافت سے بڑی آزمائش مسلمانوں کے لئے اور کوئی نہیں۔ یہ ایسی ہے جیسے باریک دھار پر چلنا۔ ذرا سا قدم لڑکھڑانے سے انسان دوزخ میں جا گرتا ہے۔ غرض انتخاب خلافت سب سے بڑھ کر ذمہ داری ہے۔ جماعت کو