انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxviii of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxviii

انوار العلوم جلد ) ۲۰ تعارف کتب ہمارے اعمال اور اقوال میں برکت دے۔ ہمیں اپنے فضل کے سایہ کے نیچے رکھے۔ فرشتے آسمان سے ہماری تائید اور نصرت کیلئے نازل کرے۔ ہم کمزور ہیں ہمیں طاقت عطا کرے۔ ہم ضعیف ہیں ہمیں توانائی بخشے ۔ ہم جاہل ہیں ہمیں علم دے۔ ہم بے عمل ہیں ہمیں اعمال حسنہ کی توفیق دے۔ ہم دنیا کے مقابلہ میں نہتے ہیں وہ ہمیں۔ کامیابی کے سامان عطا کرے تاکہ ہم اس عظیم الشان جنگ میں کامیاب ہوں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے۔" آخر میں حضور نے دوستوں کو یہ خوشکن خبر سنائی کہ آپ کے بڑے بھائی صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کل آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے ہیں ۔ الْحَمْدُ لِلهِ کہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری اولاد احمدیت میں داخل ہو ہے۔ اور دشمن کا یہ اعتراض بھی ختم ہو گیا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کی جماعت : اعت میں داخل گئی ہے نہیں۔ (۱۸) مستورات سے خطاب یہ تقریر حضور نے ۲۷ دسمبر ۱۹۳۰ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر خواتین میں فرمائی۔ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی مامور آتا ہے تو دنیا میں ایک ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اس کے ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے یہ ہیں کہ اس کے آنے سے ایک فساد برپا ہو گیا ہے۔ بیٹا باپ سے اور بیوی خاوند سے الگ ہو گئے ہیں اور تفرقہ پیدا ہو گیا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مامور تو لوگوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت پر قائم کرتا ہے۔ وہ اتحاد کی بنیاد رکھ کر لوگوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے۔ ان کے تفرقے مٹا کر انہیں ایک جماعت کی لڑی میں پرو دیتا ہے۔ ہاں وہ اپنی اصلاح شده جماعت کو خالص اور پاک رکھنے کیلئے کچھ پابندیاں ان پر لگاتا ہے تاکہ وہ ان میں مل کر دوبارہ خراب نہ ہو جائیں یہ ایسی ہی احتیاط ہے جیسے انسان اچھے دودھ کی حفاظت کیلئے اسے دہی وغیرہ میں ملنے سے دور رکھتا ہے۔ فرمایا کہ غیر از جماعت لوگوں میں بچیوں کی شادی سے اس غرض سے روکا گیا ہے کہ وہ ان سے مل کر انہی جیسی نہ بن جائیں۔ حضور احمدی مستورات کو نصیحت