انوارالعلوم (جلد 11) — Page 248
انوارالعلوم جلدا ! ۲۲۸ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ہے جیسا کہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی ہونے والا ہے تو جو کچھ ہم نے کھویا ہے اسے ہم ایک تختی کے دھوئے جانے سے زیادہ وقعت نہیں دے سکتے۔ اور ہمیں اللہ تعالٰی کے اس فضل پر شکر کرنا چاہئے کہ اس نے ہمارے ملک کو دوسرے مشرقی ممالک کی نسبت زیادہ سہولت کے ساتھ ان علوم کا وارث بنا دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سوائے جاپان کے ہندوستان علوم جدیدہ اور ان کے نتائج سے باقی سب ایشیائی ممالک کی نسبت زیادہ بہرہ ور ہوا ہے اور دانستہ یا نادانستہ جس طرح بھی ہو اس صورتِ حالات کے پیدا کرنے میں انگریزوں کا بہت کچھ دخل ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ہندوستانی ہونے کا خیال اور ان کا آپس میں اتحاد بھی بہت کچھ انگریزی سیاست کے نتیجہ میں پیدا پیدا ہوا ہوا ہے اور قانون کا ادب اور کم سے کم ہندوستانیوں کے آپس کے اختلافوں میں انصاف بھی انہی کے عہد کا نتیجہ ہے۔ پس ہمیں ان کے عیبوں کے ساتھ ان کے ہنروں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ جو شخص صداقت کے ایک حصہ کا انکار کرتا ہے وہ دوسرے حصوں کا انکار کرنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے ہماری بیداری کا موجب بنایا ہے ہمیں بھی اس کے ساتھ مجنونانہ سلوک نہیں کرنا چاہئے اور اس آخری فیصلہ کی گھڑیوں کو بلا وجہ تلخ کرکے دنیا میں ایک نئی جنگ کی بغیاد نہیں رکھنی چاہئے کہ ظلم جس طرح ایک انگریز کے ہاتھ سے بُرا ہے ویسا ہی ایک ہندوستانی کے ہاتھ سے بھی بُرا ہے۔ پس آپ لوگ نرمی اور محبت سے ایک ایسے فیصلہ پر پہنچنے کی کوشش کریں کہ جو دلوں کی کدورت اور کینہ کو دھو دے اور ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھیں جو محبت و اتحاد کا ایک نیا دور شروع کرنے والی ہو۔ یاد رکھیں کہ دنیا ایک جسم ہے اور تمام ممالک اس کے عضو ہیں اس وقت تک بہت سے لوگ اس کے اعضاء کو کاٹنے کی کوشش میں لگے رہے ہیں اب خدا چاہتا ہے کہ سب دنیا کو اس کی اصل شکل میں قائم کرے اور ملکیت و ملوکیت کی قیدوں سے آزاد کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے برطانوی حکومت کا ڈھانچہ ایک بہترین ڈھانچہ ہے اور اس میں یہ قابلیت ہے کہ مختلف الاحوال اور دور دراز کے ملکوں کو بغیر ان کی آزادی کو نقصان پہنچانے کے ایک سلسلہ میں منسلک کر دے۔ پس ایسے ذرائع کو استعمال کرو کہ عمدگی اور مضبوطی کے ساتھ ہندوستان بھی اس اتحاد عالم کی بنیاد کی ایک مکمل لیکن پیوست اینٹ ہو اور جھوٹی خواہشوں کے پیچھے پڑ کر ایسی راہیں تلاش نہ کرو کہ جو اس عجیب و غریب تجربہ کو جو مختلف ممالک کی آزادی کو قائم رکھتے