انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 247

انوار العلوم جلد) ۲۴۷ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ا اس کی بہتری سے غافل نہیں رہ سکتا تم اس سیاسی امر میں اس کا ذکر کرنے پر ہنسو یا مجھے بیوقوف سمجھو لیکن حق یہی ہے کہ ایک دن سب کو اس کے حضور جوابدہ ہوتا ہے۔ بہت ہیں جو اس زندگی میں اُس کی ہستی کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن ان کی موت کے وقت کی گھڑیاں حسرت و اندوہ میں گزرتی ہیں۔ پس چاہئے کہ آپ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے تینتیس کروڑ آدمی کی قسمت کے فیصلہ کے وقت اپنے قلیل اور بے حقیقت فوائد کو بالکل نظر انداز کر دیں کہ وہ روپیہ کی گنتی میں خواہ کروڑوں ہندسوں سے بھی اوپر نکل جائیں لیکن اخلاق و روحانیت کے لحاظ سے ایک آدمی کی آزادی کے برابر بھی ! بھی ان کی قیمت نہیں ہے۔ اگر آ ہے۔ اگر آپ لوگ انصاف سے کام لیں گے تو خواہ آپ آ۔ کے بعض ابنائے وطن اس وقت آپ آ۔ کو گالیاں دیں اور غدار کہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ آپ کی اپنی ہی نسلیں نہیں بلکہ تمام دنیا کے لوگ آپ کے نام کو عزت سے لیں گے اور آ۔ ر آپ کی یاد کے وقت ادب سے لوگ لوگوں کی گردنیں جھک جائیں گی ائیں گی اور آپ کا ذکر ہمیشہ کے لئے بابرکت ہو جائے گا۔ اسی طرح میں اپنے اہلِ وطن سے کہتا ہوں کہ اس نازک موقع پر اپنے دلوں کو تعصب اور کینہ سے خالی کر دو کہ گو یہ جذبات بظاہر بیٹھے معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان سے زیادہ تلخ اور تکلیف دہ کوئی چیز نہیں۔ واقعات بتا رہے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی کا وقت آ گیا ہے۔ خدا تعالیٰ دلوں میں ایک نئی روح پھونک رہا ہے۔ تاریکی کے بادلوں کے پیچھے سے امید کی بجلی بار بار کوند رہی ہے۔ خواہ ہر آنے والی ساعت کی تاریکی پہلی تاریکی کی نسبت کس قدر ہی زیادہ کیوں نہ ہو ہر بعد میں ظاہر ہونے والی روشنی بھی پہلی روشنی سے بہت زیادہ روشن ہوتی ہے اور خدا تعالی کی مشیت کا اظہار کر دیتی ہے۔ پس اپنے کینہ اور بغض سے خدا تعالٰی کی رحمت کو غضب سے نہ بدلو اور اس کے فضل کو اس کے قہر میں تبدیل نہ کرو کہ وہ ضدی اور ہٹ دھرم اور سچائی کے منکر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انگریزی قوم کا وجود ہندوستان میں خواہ کتنا ہی خود غرضی پر مبنی ہو پھر بھی خدا تعالٰی کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کے آنے کی وجہ سے ہم نے بہت کچھ کھویا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے آنے کی وجہ سے ہم نے بہت کچھ پایا بھی ہے۔ اگر دنیا کی مادی ترقی کی بنیاد اب جدید مغربی علوم پر رکھی جانے والی