انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 229

انوار العلوم جلد ۲۲۹ عرفان ای اور محبت اللہ کا عالی مرتبہ اپنے معشوق سے کہتا ہے۔ تم کسی قسم کے بھی کپڑے پہن لو۔ میری نظر سے تم چھپ نہیں سکتے ۔ مجھے تمہارے قد کا اندازہ ہے۔ اس لئے میں تمہیں ہر قسم کے کپڑوں میں پہچان لیتا ہوں۔ جب ایک مجازی عاشق اپنے معشوق کی محبت میں اتنی ترقی کر جاتا ہے۔ اور معشوق کے قد کا اندازہ ایسا صحیح طور پر لگا لیتا ہے کہ ایک بال بھر بھی فرق نہیں آنے دیتا تو کس طرح ممکن ہے کہ ایک حقیقی عاشق اپنے معشوق کو جہاں دیکھے نہ پہچان لے۔ غرض عرفان کا دوسرا درجہ یہ کہ عارف جہاں بھی خدا تعالی کا جلوہ دیکھے پہچان لے۔ یہ کیا پہچان ہوئی کہ اگر خدا کو اللہ کہا ہے کہ: جائے تو پہچان لے۔ لیکن کوئی گاڈ یا پر میشور کہے تو نہ پہچانے ۔ حقیقی عرفان میں ہے کہ کسی نام کسی شکل اور کسی لباس میں وہ چیز ہو تو اسے پہچان لیا جائے ۔ خدا تعالیٰ کا حسن اس کا جلال اور اس کے کرشمے ہر گوشہ اور ہر حصہ دنیا میں نظر آنے چاہئیں۔ اس بات کو مد نظر رکھ کر ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں تو پرانے زمانہ میں ۔ انے زمانہ میں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک انسان جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سیاہ فام تھا۔ سیاہ فام ہو۔ اس سے ہمیں کیا۔ ہمیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا دل گورا تھا۔ وہ ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے اور ملک کی حالت خراب دیکھ کر کڑھتا ہے۔ اہل ملک کو جوئے، شراب اور دوسرے گندوں میں مبتلا پا کر ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور لوگوں کو اس بات کے لئے تیار کرتا ہے کہ خون سے ہر قسم کے گندے اور ناپاک داغوں کو دھو یں۔ لوگ اس کی باتیں سنتے اور اس پر ہنستے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو خدا د خدا کا اوتار کہتا ہے مگر انسانوں کی گردنوں پر تلواریں چلا کر ان کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ حتی کہ اس کو ماننے والے بھی اسے کہتے ہیں۔ کیا خدا خون سے خوش ہوتا ہے کہ انسانوں کے خون بہائے جائیں۔ مگر وہ انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اور سارے ہند میں وہ آگ لگا دیتا ہے کہ اس وقت ۳۳ کروڑ نہ سہی لیکن لاکھوں انسان تو بستے ہوں گے اس آگ میں کود پڑتے ہیں اور وہ ایسی جنگ کراتا ہے۔ جو آج تک نہایت ہولناک جنگ سمجھی جاتی ہے۔ اسے اپنے ملک کے لوگ نہیں پہچان سکتے لیکن دور عرب میں جہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا جہاں کے بسنے والے اس کی قوم کو بُرا سمجھتے تھے۔ مکہ کی چھوٹی سی بستی میں بیٹھا ہوا انسان آنکھ اٹھا کر مشرق کی طرف دیکھتا ہے تو اسے ایک ایسا چہرہ نظر آتا ہے جسے لوگ لوگ سیاہ کہتے ہیں۔ مگر اسے وہ چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور کہتا ہے اس دور ملک میں اپنے محبوب کو اس میں جلوہ گر دیکھا۔ وہاں بھی میرا خدا ظاہر ہوا اور اس جگہ بھی اس نے جلوہ نمائی کی۔ ایک ایسے ملک میں جس سے اس کی قوم کو نہ صرف 6