انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 228

انوار العلوم جلدا ۲۲۸ عرفان انہی اور محبت یاللہ کا عالی مرتبہ میں گز پر دیکھ سکتا ہے۔ کوئی سو گز پر کوئی دو سو گز اور بعض میل میل دور سے ایک چیز کو پہچان لیتے ہیں۔ ان میں سے کس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ زیادہ تیز نظر والا ہے۔ اس کے متعلق جو زیادہ دور سے ایک چیز کو پہچان لیتا ہے۔ خدا تعالیٰ چونکہ مجسم نہیں اس لئے وہ دوسری چیزوں میں نظر آتا ہے۔ اور ان چیزوں میں سے ایک کامل انسان ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں۔ خدا تعالی کی ذات جن کامل بندوں میں پوشیدہ ہوتی ہے ان میں دیکھنے کی رسول کریم میں تعلیم کی نظر کیسی تھی۔ دنیا کے جس ملک کے حالات سے واقفیت حاصل کی جائے۔ اس کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ کسی نہ کسی بزرگ کے ماننے والے ہوتے ہیں۔ مگر وہ اپنے بزرگوں تک ہی ساری بزرگی ختم قرار دے دیتے ہیں۔ ہندوستان کے لوگ اگر حضرت کرشن علیہ السلام اور حضرت رام چندر جی کو خدا کا اوتار مانتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے سوا اور کسی ملک میں کوئی اوتار نہیں ہوا۔ اسی طرح چین، ایران کے لوگ اور یہودی وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں کہ صرف ہمارے بزرگ سچے ہیں۔ باقی سب جھوٹے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بزرگوں کو دیکھتے تو ہیں مگر قریب والوں کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں عرفان تو ہے مگر بالکل قریب کی چیز کو دیکھنے کا۔ غرض تمام قوموں کی حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دوسری کامل ذاتوں میں دیکھتی چلی آئی ہیں مگر ان کا یہ دیکھنا محدود ہے۔ یا تو وہ بالکل قریب کے بزرگ کو یا اپنے ہی حلقہ کے بزرگ کو دیکھتی ہیں اس سے باہر نہیں دیکھ سکتیں۔ لیکن خدا تعالی ساری دنیا کا خدا ہے اور تمام کے تمام انسان اس کے بندے ہیں تو ضروری ہے کہ ہر ملک اور ہر قوم میں وہ ظاہر ہوا ہو۔ اور ہر قوم میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہوں جن میں خدا تعالی نے جلوہ نمائی کی ہو۔ ایک طرف تو یہ بات ہے اور دوسری طرف یہ کہ جس چیز کو انسان ایک جگہ دیکھ کر پہچان لیتا ہے اس قسم کی چیز اگر دوسری جگہ ہو تو اسے بھی پہچان سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ملیح آباد میں آم کو د کو دیکھ کر اسے پہچان لیتا ہے تو وہ کابل میں آم کو دیکھ کر بھی پہچان لے گا اور ایران میں بھی۔ لیکن اگر کسی کے سامنے انگلستان میں آم رکھا جائے اور وہ کے یہ آم نہیں ہے تو کون کہے گا کہ اس شخص کو آم کی پہچان ہے۔ پہچان لینے کے معنے ہی یہ ہیں کہ جہاں وہ چیز نظر آئے پہچان لی جائے۔ کسی نے کہا ہے ۔ من رنگے که خواهی جامه ی پوش انداز قدت را ہے شناسم