انوارالعلوم (جلد 11) — Page 212
انوارالعلوم جلدا ۲۱۲ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دشمن کی نظر میں پھر یہ شخص پہلے کی طرح تیر اندازی میں مشغول ہو جاتا ہے۔ ہوئے کا۔ وو بہت سے و ، دشمنان اسلام کہتے ہیں کہ رسول کریم میں یہ زمانہ کی پیدائش تھے۔ یعنی آپ نے زمانہ کو متغیر نہیں کیا۔ بلکہ اس زمانہ کے حالات نے آ۔ نے آپ کے وجود کو پیدا کیا۔ عرب کے لوگ اپنی حالت سے تنگ آچکے تھے۔ عیسائیت ان کی ارواح کو گرما رہی تھی۔ وہ ایک نئی شکل اختیار کرنے کے لئے تیار تھے۔ ضرورت صرف ایک سانچے کی تھی جس میں وہ پڑ جائیں اور ڈھل جائیں۔ وہ سانچہ بھی حالات زمانہ کے ماتحت آپ ہی آپ تیار ہو رہا تھا۔ وہ سانچہ میم کی ذات تھی۔ عرب کے قلوب اس میں پڑے اور ایک نئی شکل اختیار کرتے ہوئے ایک نیا نام پاکر دنیا میں پھیل گئے نہ محمد می سلیم نے کوئی نیا قانون دنیا میں پیش کیا نہ دنیا نے ان کے ذریعہ سے کوئی نیا تغیر پیدا کیا۔ میور بھی اپنی جبلی حالت کے ماتحت اس خیال کی تائید کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن کبھی نسیم محمدی جہالت کی سرزمین سے اس کے پاؤں اکھیڑ دیتی ہے اور وہ لرزتے کانپتے ہوئے“ ئے غوطے کھاتے ہوئے ، مگر ؟ ، مگر بہر حال زمین سے اوپر ایک نئی دنیا میں پرواز کرنے لگتا ہے۔ ایسی ہی گھڑیوں میں سے ایک گھڑی میں اس کے قلم سے یہ الفاظ نکلے ہیں۔ یہ کہنا کہ اسلام کی صورت عرب کے حالات کا ایک لازمی نتیجہ تھی ایسا ہی ہے جیسا کہ یہ کہنا کہ ریشم کے باریک ناگوں میں سے آپ ہی ایک عالی شان کپڑا تیار ہو گیا ہے یا یہ کہنا کہ جنگل کی بے تراشی لکڑیوں میں سے ایک شاندار جہاز تیار ہو گیا ہے۔ یا پھر یہ کہنا کہ کھردری چٹان کے پتھروں میں سے ایک خوبصورت محل تیار ہو گیا ہے۔ اگر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے ابتدائی عقائد پر پختہ رہتے ہوئے عیسائیت اور یہودیت کی سچائی کی راہنمائی کو قبول کرتے چلے جاتے۔ اور اپنے متبعین کو ان دونوں مذاہب کی سادہ تعلیم پر کاربند رہنے کا حکم دیتے تو دنیا میں شاید ایک ولی محمد یا ممکن ہے کہ ایک شہید محمد پیدا ہو جاتا۔ جو عرب کے گر جا کی بنیاد رکھنے والا قرار پاتا۔ لیکن جہاں تک انسانی عقل کام دیتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس صورت میں آپ کی تعلیم عرب کے دل کی گہرائیوں میں تلاطم پیدا نہ کر سکتی اور سارا عرب تو الگ رہا اس کا کوئی معقول حصہ بھی آپ کے دین میں داخل نہ ہوتا۔ لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپ نے اپنے انتہائی کمال کے ساتھ ایک ایسی کل ایجاد کی کہ جس کی موقع کے مناسب ڈھل جانے والی قوت کے ساتھ آپ نے آہستہ آہستہ عرب قوم