انوارالعلوم (جلد 11) — Page 211
انوار العلوم جلدا ۲۱۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دشمن کی نظر میں أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ - انحضرت صلی علم ایک دشمن کی نظر میں سرولیم میور کے۔ سی۔ ایس۔ آئی۔ سجو یو پی کے ایک سولین تھے اور آخر ترقی کرتے کرتے ہو۔ پی کے لفٹیننٹ گورنر ہو گئے۔ انہوں نے ایک کتاب آنحضرت میم کے سوانح پر لکھی ہے جو اس موضوع پر مغربی لوگوں کی کتابوں میں سے اگر بہترین نہیں تو بہترین کتابوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ سرولیم میور اسلام اور بانی اسلام کے شدید ترین دشمنوں میں سے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ مراسم اور حکومت کے ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز ہونے کی وجہ سے وہ اپنے قلم کو بہت بہت حد تک روکے رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے متعصبانہ خیالات پھر بھی ان کی تحریر میں سے چھن چھن کر نکل ہی آتے ہیں۔ رسول کریم میں ایم کے متعلق جو زہر انہوں نے اگلا ہے اور جو نیش زنی انہوں نے کی ہے وہ قابل تعجب نہیں کیونکہ برتن میں سے وہی ٹپکتا ہے جو کچھ اس کے اندر ہوتا ہے مگر اس امر پر حیرت ضرور ہے کہ رسول کریم میں تعلیم کا حسن کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں بھی شناخت و عرفان کی ایک جھلک پیدا کر دیتا ہے اور وہ بھی اس حسن دل آویز کی دید میں محو ہوتے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں۔ مسیحیت کا یہ تیر انداز مجنونانہ طور پر آنحضرت مسلم کی ذات پر تیر پھینکنے کے بعد جب والہانہ رنگ میں زمین کی طرح جھلکتا ہوا نظر آتا ہے کہ انہی خون کے قطروں کو جو اسی کے تیروں سے زمین : زمین پر گرے تھے ادب و احترام کے ساتھ چاٹ لے تو دل میں گر گریاں ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ اس وقت یہ شخص عداوت و ا استعجاب کے متضاد جذبات کا مجسمہ نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ بادل کی طرح قدرت نے آگ اور پانی ایک ہی جگہ پر جمع کر دیئے ہیں۔ جب وہ حالت جاتی رہتی ہے تو