انوارالعلوم (جلد 11) — Page 188
ا تو ا ر ا لعلوم جلد) ۱۸۸ گول میز کانفرنس اور مسلمانوں کی نمائندگی رپورٹ اگر ہماری خواہشات کے خلاف ہو تو اس سے صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے اور اس میں مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ اگر اس میں ہمارے خیالات کی صحیح ترجمانی نہ کی جائے اور فیصلہ ہماری مرضی کے خلاف ہو تو اس کے بعد سوائے اس کے کہ ملک میں انار کی کا دور شروع ہو جائے ہمارے اختیار میں کچھ باقی نہیں رہتا۔ پس اس سوال کے متعلق ہمیں پوری طرح غور کر لینا چاہئے اور اپنے لئے ایک ایسا طریق راہ تجویز کر لینا چاہئے جس پر چلنا ہمارے لئے موجبِ فلاح و کامیابی ہو نہ موجب خسران و ناکامی۔ اور اگر اگر سائمن کمیشن کی سفارشات مسلمانوں کے منشاء کے مطابق ہوں ۔ بالفرض سائمن کمیشن کی سفارشات ہمارے منشاء کے مطابق بھی ہوں تب بھی گول میز کانفرنس کا سوال کم اہم نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ جب جمله سوالات از سر نو کانفرنس کے سامنے آئیں گے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہو سکتی کہ کمیشن کی سفارشات میں کوئی تبدیلی نہ ہو ۔ پس بہر حال گول میز کانفرنس کا سوال ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ خصوصاً ایسی صورت میں کہ سزایی بینٹ (ANNIE BESANT) نے جو اس کانفرنس کی ممبر مقرر ہو چکی ہیں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ نہرو رپورٹ کو اس کانفرنس میں غور کرنے کیلئے پیش کریں گی۔ پیشتر اس کے کہ میں اصل مسئلہ کے متعلق مسلمانوں کو اتحاد کی بے حد ضرورت اپنے خیالات ظاہر کروں، میں مسلمانوں کو عام طور پر ایک نصیحت کرنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی جس قدر اس وقت ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ ہر ایک قوم خواہ وہ کس قدر بھی چھوٹی ہو اس کے تعاون کے وہ محتاج ہیں۔ اور اگر اس وقت تفرقہ اور شقاق کا بیج انہوں نے بویا تو یقیناً یہ امران کے لئے سخت مشکلات کا موجب ہوگا۔ گول میز کانفرنس کی نمائندگی کے متعلق اگر مسلمانوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اس کا فلاں فلاں نمائندہ فلاں فلاں فرقہ میں سے کیوں چنا گیا ہے تو ان سے لازماً ان فرقوں کی ہمدردی ان سے ہٹ جائے گی اور قلیل التعداد جماعتیں اپنے نظام اور اپنی قوت عملیہ میں یقیناً کثیر التعداد جماعتوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ پس بلاوجہ قومی تفریق کا سوال اُٹھانا کسی صورت میں بھی مسلمانوں کے لئے مفید نہیں ہو سکتا اور اس سے انہیں ہر طرح