انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 187

انوارالعلوم جلد ۱۸۷ گول میز کانفرنس اور مسلمانوں کی نمائندگی أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ گول میز کانفرنس اور مسلمانوں کی نمائندگی نہایت نازک معاملہ میں یہ مضمون پیر اور منگل کی درمیانی رات کو لکھ رہا ہوں ۔ اخبار والوں کو اس وقت تک سائمن کمیشن رپورت (Simon Commission Report) کی دوسری جلد مل چکی ہوگی اور وہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہوں گے۔ مگر ہمیں ابھی تک اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں سوائے اس کے رات جو پہلی جلد کو پڑھ کر ہم نے قیاس کیا ہے اور وہ قیاس کچھ ایسا خوش کن نہیں ہے۔ ایک را صرف درمیان میں ہے لیکن یہ معاملہ ایسا نازک ہے کہ اس میں ایک رات کے انتظار کو بھی میں درست نہیں سمجھتا۔ جس وقت میرا یہ مضمون لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچے گا اس وقت تک رپورٹ شائع ہو چکی ہوگی اور غالبا ملک میں ایک جوش کی حالت پیدا ہو چکی ہوگی۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر سائمن کمیشن کی رپورٹ ہماری امیدوں کے خلاف بھی ہو تب بھی ہمیں یہ سمجھ بینا چاہئے کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس (Round Table Conference) کا مطالبہ تھا ہی اسی وجہ سے کہ اہل ہند کے خیال میں اس کمیشن کی رپورٹ ملکی نقطۂ نگاہ سے قابل تسلیم نہ تھی۔ پس اگر وہ رپورٹ واقعہ میں ہماری امیدوں کے خلاف ہو تو اس سے صرف اہل ہند کے خیالات کی تائید ہوگی۔ نہ کہ کوئی ایسی نئی بات جس سے انہیں اپنے رویہ کے بدلنے کی ضرورت محسوس ہو۔ میرے نزدیک اگر سائمن رپورٹ مسلمانوں کی خواہشات کے خلاف ہو ؟ سائمن کمیشن کی