انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 178

انوار العلوم جلدا ۱۷۸ شہر د کمیٹی کی تمہ رپورٹ پر مختصر تبصرہ ہے کہ بالکل ممکن ہے کہ کسی جگہ کے مسلمان بھی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور صرف پنجاب کے سکھ اور ہندو ہی اس سے نفع حاصل کر سکیں۔ اسی عنوان کے حصہ سترہ میں ایک زیادتی کی گئی ہے اور اجارہ زمین کے متعلق قانون میرے نزدیک وہ زیادتی بجائے مفید ہونے کے مسلمانوں کے لئے مضر ہو سکتی ہے ، وہ زیادتی یہ یہ ہے:۔ پارلیمنٹ ایسے بھی قوانین بنائے گی کہ جن کے ذریعہ سے کسان کو اجاره دائمی حاصل ہو جائے گا اور مناسب شرح لگان مقرر ہو جائے گی۔" اول تو جہاں تک میں خیال کرتا ہوں ایسے قانون کا بنانا سنٹرل گورنمنٹ کے دائرہ عمل سے باہر ہے کیونکہ جن امور کے متعلق مرکزی حکومت کو قوانین بنانے کا اختیار دیا گیا ہے اور جو نہرو رپورٹ کے شیڈول نمبرا (1۔Schedule No) کے عنوان کے نیچے درج ہیں ان کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کو زمیندار اور کسان کے باہمی حقوق کے متعلق کوئی قانون بنانے کا اختیار حاصل نہیں ہے یہ اختیارات مقامی حکومتوں کے سپرد ہیں۔ قطع نظر اس کے یہ سوال اپنی ذات میں بھی ایسا ہے کہ سارے ہندوستان کے لئے اس کا حل بالکل نا ممکن ہے اور جو حکومت اس کے لئے عام قانون بنائے گی وہ ضرور ملک کو سخت نقصان پہنچائے گی۔ پس میرے نزدیک اس سوال کے حل کو صوبہ جات پر ہی چھوڑنا چاہئے ورنہ چونکہ مسلمان اپنی نسبت آبادی کے لحاظ سے زمیندارہ کے ساتھ زیادہ تعلق رکھتے ہیں ، وہ اس قانون سے بہت نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ دوسرا تغییر جس کے متعلق میں کچھ لکھنا مناسب سمجھتا ہوں وہ زبان کے حکومت کی زبان عنوان کے نیچے مادہ چار الف کے حصہ اول میں یوں بیان کیا گیا ہے:۔ جائے۔“ " حکومت کی زبان ہندوستانی ہوگی خواہ وہ ناگری میں یا اردو میں لکھی یہ خواہ" کا لفظ ایہ ایسا مشکوک ہے کہ بالکل ممکن ہے سرکاری رپورٹیں ساری کی ساری ناگری میں ہی شائع ہوتی رہیں اور اس طرح اردو کی ترقی کو نقصان پہنچا دیا جائے۔ اور یہ لازمی بات ہے کہ اگر سرکاری طور پر ناگری حروف کو رائج کیا گیا تو آہستہ آہستہ عربی اور فارسی کے حروف زبان سے نکل کر موجودہ اردو کی بجائے ہندی بھاشا ہی کا نام اردو ہو جائے گا۔ خصوصاً