انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 177

انوار العلوم جلد ८८ شهر و کمیٹی کی تمہ رپورٹ پر مختصر تبصرہ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ - نہرو کمیٹی کی تمہ رپورٹ پر مختصر تبصرہ نہرو کمیٹی نے میرے تبصرے کی اشاعت کے بعد اپنی رپورٹ کا ایک تمہ لکھا ہے اور اس میں اپنی پہلی پیش کردہ تجاویز میں بعض اصلاحیں کی ہیں۔ میرے نزدیک گو اس اصلاح کے باوجود میرا تبصرہ بہت ہی کم تغییر کا محتاج ہے لیکن چونکہ ممکن ہے بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال گذرے کہ شاید میری تنقید کے بعض حصے تمہ رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد غیر ضروری ہو گئے ہیں اس لئے میں اختصار کے ساتھ اس اصلاح کے ان حصوں کے متعلق جو مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔ سپلیمنٹری رپورٹ کے عنوان اصولی حقوق تعلیم کے متعلق اصلاح کے مادہ نمبر۴ کے حصہ )FUNDAMENTAL RIGHTS( نمبرہ میں تعلیم کے متعلق ایک اصلاح کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ :۔ جہاں جہاں اقلیتوں کی معقول تعداد ہوگی وہاں ان کی زبان اور انہی کی تحریر میں تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے گا۔" ہیں اور یہ اصلاح بے شک ایک مفید اصلاح ہے لیکن اس کے الفاظ نہایت ہی ' مبہم ہیں بالکل ممکن ہے کہ اس اصلاح کے باوجود مسلمان بہت سے صوبوں میں اپنی زبان میں تعلیم پانے سے محروم رہ جائیں۔ اگر یورپ کی بعد از جنگ پیدا ہونے والی ریاستوں کے قوانین کے مطابق معقول تعداد کی کوئی تشریح کر دی جاتی تو مسلمان اس سے تسلی پاسکتے تھے۔ معقول کا لفظ اتنا مبہم