انوارالعلوم (جلد 11) — Page 162
انوار العلوم جلدا ۱۶۲ فضائل القرآن (۲) اِلَّا لِيَعْبُدُونِ ان کے عہد کو پورا کرنے کے ہیں۔ لیکن فرماتا ہے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی اس خلش میں لگے ہوئے ہیں کہ خدا سے مل جائیں۔ انہوں نے اپنی طرف سے جدوجہد کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ سو خدا ایسے صادقوں کو بھی ان کے صدق کا ضرور بدلہ دے گا۔ اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن نے یہ امر تسلیم کیا ہے کہ محمد صلی اللہ کی امت میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو قرآن پر چل کر خدا کو مل گئے۔ اس لئے کا تعلق پھر ملائکہ چونکہ اخلاق فاضلہ کی محرک ہستیاں ہیں۔ اس ملائکہ سے مؤمنوں کا مزید ثبوت کے لئے فرمایا کہ ان کی روحانی درستی کی علامتیں بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں اور روحانی تکمیل کے مؤکل ان سے ملنے لگتے ہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِنَّ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ لا یعنی وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر استقامت سے قائم رہتے ہیں یعنی اپنے اعمال سے اس کا ثبوت دیتے ہیں۔ ہم ان پر فرشتے نازل کرتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں ڈرو نہیں اور نہ کسی پچھلی غلطی کا غم کرو۔ تمہیں جنت کی بشارت ہو۔ تم خدا سے جاملو گے اور وہاں تمہیں وہ چیز مل جائیگی جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تمہارے مددگار ہوں گے اور تم اس دنیا میں اور اگلے جہان میں جو کچھ چاہو گے اور جو کچھ مانگو گے وہ تمہیں مل جائے گا۔ اس میں بتایا کہ تمہاری قلبی اصلاح بھی ہو جائیگی اور عملی بھی۔ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے متعلق فرمایا کہ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ۱۸ تم جو چاہو کرو۔ یعنی اب تم بدی کر ہی نہیں سکتے۔ اسی طرح یہاں بھی یہی مراد ہے کہ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىَ اَنْفُسُكُمْ تمہارے نفس ایسے پاکیزہ ہو گئے ہیں کہ اب جو کچھ تم چاہو گے پاک چیز ہی چاہو گے ۔ یعنی تمہارے دل میں نیک تحریکیں ہی ہونگی بری نہیں ہونگی۔ اور ہمیشہ پاک چیزیں ہی مانگو گے بُری نہیں مانگو گے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ پچھلے زمانہ پر ہی ختم ہو گیا یا آگے بھی اس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سو اس کا جواب بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔