انوارالعلوم (جلد 11) — Page 161
انوار العلوم جلد 141 فضائل القرآن (۲) کر کہتے ہیں کہ انہیں ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے اور اللہ تعالٰی کی یہ سنت ہے کہ وہ محسنوں کا ساتھ دیتا ہے۔ اس آیت میں بتایا کہ ایسے لوگ جتنا ہماری طرف چل کر آسکیں گے اتنا اگر چلیں گے۔ تو جب ان کے پیر چلنے سے رہ جائیں گے ہم خود جا کر انہیں لے آئیں گے۔ کیونکہ ہمارا یہ طریق ہے کہ کچھ بندہ آتا ہے اور کچھ ہم اس کی طرف جاتے ہیں۔ ہاں وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا الخ میں یہ بتایا کہ قرآن خدا پر افتراء نہیں۔ اگر یہ جھوٹ ہوتا تو اس کے بنانے والا عذاب میں مبتلا کیا جاتا۔ پھر وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا میں یہ بتایا کہ جھوٹ کوئی اس وقت بولتا ہے جب سچائی سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے۔ لیکن جب ہم نے کلام نازل ہونے کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ہم نے کہہ دیا ہے کہ محسن بن جاؤ تو اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاؤ گے تو کیوں بچی کوشش کر کے سچا کلام حاصل نہ کیا جائے ۔ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس آیت کے متعلق یہ سوال پیدا رضائے الہی حاصل کرنے والا کامیاب گروہ ہوتا ہے کہ اس میں تو صرف یہ تایا گیا ہے کہ ہم ایسا کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خدا تعالٰی نے ایسا کیا بھی ہے یا نہیں ؟ سو اگرچہ اس سوال کا جواب اس آیت میں آ جاتا ہے۔ کیونکہ خدا تعالٰی سے اتصال اس کا ہو گا جو مناسب روحانی تکمیل حاصل کر چکا ہو اور وہ جنت بھی پائے گا۔ لیکن علیحدہ علیحدہ بھی ان باتوں کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق رکھنے والے آخر قرآن پر چل کر اپنی مراد کو پہنچ گئے اور انہوں نے جنت پالی۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً - لِيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّدِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنْفِقِينَ إِنْ شَاءُ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا - ۲۵ فرمایا۔ ان مومنوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے انہوں نے پورا کر دیا۔ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً ۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا اور وہ خدا سے مل گئے۔ نَحْب کے معنی نذر اور ما أَوْجَبَ عَلَى نَفْسِہ کے بھی ہوتے ہیں۔ پس اس سے مراد مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ