انوارالعلوم (جلد 11) — Page xix
وار العلوم جلدا 11 تعارف کتب خوبیوں کی جامع ہو اور تمام وجوہ کمال میں سب سے بڑھ کر ہو۔ قرآن مجید اس معیار پر پورا اُترتا ہے حضور فرماتے ہیں۔ ” جب میں نے اس رنگ میں غور کیا تو قرآن کریم کا سمندر میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور مجھے معلوم ہوا کہ ہر فضیلت کی وجہ جو دنیا میں پائی جاتی ہے اور جس کی بناء پر ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دی جاتی ہے وہ بدرجہ اتم قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور فضیلت دینے والی خوبیوں کے سارے رنگ قرآن کریم میں موجود ہیں۔ میں نے اس وقت سرسری نگاہ سے دیکھا تو قرآن کریم کی فضیلت کی چھیں وجوہات میرے ذہن میں آئیں بالکل ممکن ہے کہ یہ وجوہات اس سے بڑھ کر ہوں"۔ (۲۶) اس کے بعد حضور نے قرآنی فضیلت کی چھینیں وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ اور ان امور پر تفصیلی بحث کر کے روشن دلائل پیش فرمائے ہیں۔ اس تقریر میں آپ وقت کے لحاظ سے کتب سابقہ پر قرآن مجید کی فضیلت کی صرف چھ وجوہات بیان فرما سکے۔ آخر میں حضور نے فرمایا : (۳۲) میں نے فضیلت قرآن کی چھبیس وجوہات میں سے اس وقت صرف چھ کا ذکر کیا ہے اور ان کی بھی ایک ایک مثال دی ہے خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو باقیوں کے متعلق پھر بحث کروں گا۔ فی الحال اسی پر بس کرتا ہوں اور دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی افضل اور بے نظیر کتاب پر عمل کرنے اور اس کے احکام کو حرز جان بنانے کی کوشش کرو۔ اس وقت میں قرآن کریم کے جن مطالب کو واضح کر سکا ہوں ان کے مقابلہ میں اور کوئی کتاب ایسے مطالب پیش نہیں کر سکتی۔ دوستوں کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی اس کتاب کی طرف خاص طور پر توجہ دیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں"۔ (۹) ندائے ایمان (1) جلسہ سالانہ ۱۹۲۹ء کے موقع پر حضور نے احباب جماعت کو دعوت الی اللہ کی طرف