انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 155

انوار العلوم جلد از ۱۵۵ فضائل القرآن (۲) بعد بھی بعض ہدایتوں میں وقتی طور پر تغیر کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ ان کو قرآن نے انسانی عقل پر چھوڑ دیا ہے۔ اور فیصلہ کرنے کا یہ طریق بتا دیا ہے کہ أَمْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ ۵۵ یعنی مومنوں کا یہ طریق ہے کہ وہ قومی معاملات کو باہمی مشورہ سے طے کیا کرتے ہیں۔ پس اسلام میں یہ نہیں کہ ہر فرد اپنی اپنی رائے پر چلے بلکہ مشورہ کرنے کے بعد جو بات طے ہو اس پر چلنا چاہئے۔ مگر باوجود ان باتوں کے چونکہ انسان پھر بھی غلطی کر سکتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کیلئے بعض غیبی سامان بھی مہیا کئے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ اس نے ملائکہ کو پیدا کیا ہے جن کا کام یہ ہے کہ انسان کو نیکی کے رستہ پر چلاتے رہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔ لَهُ مُعَقِّبْتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ ۵۶، یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی ملائکہ کی ایک جماعت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی حفاظت کر رہی ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کیلئے شریعت نازل کی اور اسے تفصیلی ہدایات دیں۔ مگر پھر بھی انسان چونکہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے اس کی حفاظت پر ملائکہ لگا دیئے گئے ملائکہ کے ایسے اعمال کے متعلق باقی کتب خاموش ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ باقی کتب نے ملائکہ کے متعلق تفصیلی بحث کی ہی نہیں۔ بلکہ ایسے رنگ میں بحث کی ہے کہ ایک طبقہ ان کو خدا کی بیٹیاں کہنے لگ گیا۔ دنیا اس امر پر ہنستی ہے مگر تجربہ کار لوگ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان احسانوں میں سے ایک احسان ملائکہ کا وجود ہے مگر یہ موقع اس پر تفصیلی بحث کرنے کا نہیں ہے ۔ روحانی نتائج کا اظہار (۳) تیرا اصل یہ بتایا کہ چونکہ انسان اگر ایک ہی رنگ میں کام کرتا چلا جائے اور اس کے نتائج نہ دیکھے تو اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لئے نتائج کے اظہار کا بھی کوئی طریق ہونا چاہئے۔ سکولوں میں طلباء کا امتحان لینے کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ نتائج دیکھ کر ان کی ہمت بڑھے اور وہ تعلیم میں ترقی کریں۔ اسی رنگ میں خدا تعالیٰ نے روحانی نتائج کے اظہار کے لئے بھی ایک طریقہ بیان فرما دیا۔ چنانچہ فرمایا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۷ ۵ تم مجھے ساتھ کے ساتھ بلاؤ میں تمہاری پکار سنوں گا۔ اب یہ تینوں باتیں اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں بھی غیر مذاہب کا بے اصولا این ملیں گی تو سی مگر بے اصولے طور پر۔ مثلا (1) وہ مذاہب جو احکام دیتے ہیں ان کی حکمت نہیں بتاتے ۔ (۲) احکام تو دیتے ہیں مگر ایسے کہ جو انسانی حریت کو