انوارالعلوم (جلد 11) — Page 154
انوار العلوم جلد 11 اولد فضائل القرآن ۱۲۰ (۳) تیسری چیز جس کا بیان کرنا ایک مذہب روحانی طاقتوں کی تکمیل کیلئے کامل تعلیم کیلئے نہایت ضروری ہے۔ وہ ان امور کا بیان کرنا ہے جو روحانی طاقتوں کی تکمیل اور ان کی امداد کیلئے ضروری ہیں۔ یہ مضمون ایساء سیچ ہے کہ اس میں شریعت کے تمام احکام آسکتے ہیں۔ اور مذہب کے تمام اصول اور جزئیات پر بھی اس میں بحث ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ان کی غرض یہی ہوتی ہے کہ روحانی طاقتوں کا ارتقاء ہو ۔ لیکن چونکہ اس لیکچر کے یہ مناسب حال نہیں اس لئے میں اختصار ا اس کے متعلق صرف ایک ریویو کر دیتا ہوں کہ اسلام چونکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ (۱) روح انسانی جسمانی تغیرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ جسمانی تغیرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ جیسے فرمایا يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۵۳ اے رسولو! پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور مناسب حال اعمال بجا لاؤ۔ یعنی طیبات کے کھانے سے نیک اعمال کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ اس لئے وہ قرار دیتا ہے کہ مذہب کو ایک حد تک انسان کی غذاؤں اور اس کے کانوں اور اس کی آنکھوں اور اس کی قوتِ حاستہ پر بھی حد بندی کرنی چاہئے تاکہ معدہ اور جو اس کے ذریعہ سے دماغ اور دل پر بد اثرات نہ پہنچیں اور اس کی روح مردہ نہ ہو اور اس نے اس کے متعلق دو اصول مقرر کئے ہیں۔ اول ضروری اور اصولی امور اس نے خود بتا دیئے ہیں اور ہر مسئلہ کے متعلق تفصیلی احکام دیتے ہیں مگر باوجود اس ہیں مگر باوجود اس کے (۲) اس نے تسلیم کیا ہے کہ بعض امور میں انسان کی بدلنے والی ضرورتیں یا مختلف ممالک کے لوگوں کیلئے بدلتے رہنے والے قوانین کی بھی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ زمانہ کے تغیرات کے لحاظ سے ایسی ضرورتیں پیش آسکتی ہیں جن کے متعلق اپنے طور پر قوانین بنانے پڑیں۔ چنانچہ اس کے لئے وہ یہ قاعدہ مقرر فرماتات که يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا مِنْ أَشْيَاءَ إِنْ تَبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ - وَإِنْ تَسْئَلُوا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزِّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَلَكُمْ عَهَا اللهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ۵۴، فرمایا ۔ اے مومنو! تم آپ ہی آپ یہ سوال نہ کیا کرو کہ ہم فلاں کام کس طرح کریں اور فلاں کس طرح۔ کیونکہ بعض باتیں اللہ تعالٰی نے جان بوجھ کر اس حکمت کے ماتحت چھوڑ دی ہیں کہ اگر انہیں بیان کر دیا جائے تو وہ تمہارے لئے دائمی طور پر مقرر ہو جائیں گی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ آئندہ ان میں تبدیلی کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔ پس دوسرا اصل قرآن کریم نے یہ بتایا کہ کامل تعلیم کے